تازہ ترین
October 19, 2017

تحریر: محمد سلیم

سوال: ہمارا سکول پر مضمون لکھو

جواب: ہمارا سکول

ہمارے سکول کا نام گورنمنٹ پرائمری اسکول عبدالمالک کوٹھے صوابی ہے۔ ہمارا گاوں عبدالمالک کوٹھے میں صرف یہ ایک عدد پرائمری اسکول ہے اور اسے کے علاوہ نہ کوئی مڈل اسکول ہے اور نہ کوئی ہائی اسکول۔ حتیٰ کہ یہان لڑکیوں کا بھی کوئی اسکول نہیں ہے، حالانکہ ہمارے گاوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کوئی ۳۰۰ سے اوپر خاندان رہتے ہیں۔ ہم غریب لوگوں کے دل بہت بڑے ہوتے ہیں اور ہماری بہنیں بھی ہمارے ہی ساتھ پڑھتی ہیں۔ ہمارے سکول میں ہم تقریباً ۱۷۰ بچّے پڑتے ہیں جس میں ایک تہائی تعداد ہمارے بہنوں کی ہے۔ ہمارا گاوں صوابی شہر سے تقریباً ۵ کلومیٹر کے فاصلےپر ہے ہماراا سکول ۱۹۹۷ میں بنا تھا- ہمارے اسکول کا کل احاطہ تقریباً دو کنال ہے اور یہ زمین ایک مقامی زمیندار نے حکومت کو عطیہ کیا تھا اسی لیے اسکول کا نام اُسی زمیندار کے نام سے منسوب ہے۔ چونکہ ہماری پیاری حکومت سارے پیسوں سے ہمارے لیے ایٹم بم، میزاییل، آبدوزیں اور لڑاکا طیارے خریدتی ہے تاکہ اسلام اور پاکستان کا بول بالا ہو اسی لیے اُن کے پاس اتنے پیسےہی نہیں بچتے کہ ہمارے اسکول کے لیے اپنی زمین خرید لے۔ سُنا ہے کہ سارے ملک میں سرکاری سکول کے لیے زمین عام طور پر خیرات کے طور پر دی جاتی ہے۔

اسی خیرات کی وجہ سے ہمارے سکول کا چپڑاسی بھی عبدالمالک کے کہنے پر بھرتی ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بھی ہمارے ہی طرح غریب ہے اور ہمار ے اسکول کا بڑی ایمان داری کے ساتھ خیال رکھتا ہے۔ اُس کا اپنا نام غلام محمد ہے لکین لوگ اُسے ‘کارٹر لا’ کہ کر پکارتے ہیں۔ اُس کا یہ نام اسی لے پڑ گیا ہے کیونکہ آس کی شکل اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر سے ملتی تھی۔

ہمارےا سکول میں دو کمرے اور ایک چھوٹا سا برآمدہ ہے اور باقی سارا کا سارا صحن ہے۔ ہمارے سکول میں ادنیٰ سے لے کر پانچویں تک کے کلاسیں ہیں۔ ایک کمرے میں دو چھوتی اور پانچویں جماعت کے بچے بیٹھتے ہیں جبکہ دوسرے کمرے میں دوسرے اور تیسرے کلاس کے بچّے بیٹھتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ نے بندوبست کچھ اس طرح کیا ہوا ہے کہ ایک جماعت کے بچے ایک دیوار کی طرف اور دوسرے جماعت کے بچے دوسرے دیوار کی طرف رُخ کرکے بیٹھتے ہیں۔ اول کلاس کے بچے برآمدے میں بیٹھتے ہیں۔ادنا کلاسوں کے بچے باہر صحن میں بیٹھتے ہیں شاید اسی لیے اسے ادنا کلاس کہتے ہیں؟ حالانکہ یہ عجیب ہے کیونکہ ہمارے سکول کے سارے کے سارے بچے ادنا کلاس کے والدین کے اولاد ہیں۔

ہمارے اسکول میں بیٹھنے کے لیے کوئی بینچ یا کُرسی نہیں ہے، ہم میں سے کچھ پلاسٹک کی چٹائی اور کچھ موٹے دھاگے والے ٹھاٹ پر بیٹھتے ہیں۔ برآمدے والے اور باہر بیٹھنے والے بچوں کے لیے تو وہ بھی میسر نہیں۔ سنا ہے ساری سرکاری اسکولوں کا یہی حال ہے۔ ہمارے ضلع کے سب سے پرانے ہائی اسکول، جوکہ ۱۸۹۰ میں بنا تھا اس میں بھی ۴۰ فیصد بچے ٹھاٹ پر ہی بیٹھتے ہیں حالانکہ اسی سکول میں آج سے بیس سال پہلے سب بچے بینچوں پر بیٹھتے تھے۔ ہر سرکاری اسکول میں صرف ادنا کلاس کے والدین کے بچے پڑنے آتے ہیں کیونکہ مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کے بچے تو پرائیوٹ اسکولوں میں پڑ ھتے ہیں۔ صرف صوابی شہر کے ایک کلومیٹر ریڈیس میں تقریباً ۳۰ پرائیوٹ اسکول ہیں۔

ہمارے سکول میں کل دو اساتذہ ہیں جو ہم سب بچوں کو باری باری پڑھاتے ہیں۔ سنا ہے کہ اخبار میں آیا تھا کہ اس طرح کے سکول صرف ہمارے صوبے میں ۲۵۰۰ ہے۔ اب یہ نہ پوچیو کہ وہ ہمیں کیا اور کیسے پڑھاتے ہیں۔ ہاں ہاں ابھی تک وہ شہتوت کا ڈنڈا اُن کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن ہمیں پھر بھی ان سے پیار ہے اور دونوں اساتذہ دوپھر کی بھوک ہمارے گھروں میں پکنے والے روٹی سے بجھاتے ہیں۔ جب موسم خراب ہوتا ہے تو باہر بیٹھنے والے بچوں کی چھٹی ہوتی ہے، جب کسی استاذ کا ضروری کام ہوتا ہے[ جو کہ اکثر ہوتا ہے ] تو ہمارے چھٹی ہوتی ہے، جب ہمارے والدین کو کھیتوں میں ضرورت ہوتی ہے تو بھی ہمارے سکول سے چھٹی ہوتی ہے۔

ہمارے اسکول میں یا تو مقامی غریب لوگ پڑتے ہیں اور یا باجوڑ،مہمند، دیر، سوات وغیرہ سے آ ئے ہوئے لوگ۔ ہمارے والدین پرائے زمینوں پر کام کرتے ہیں اور وہ ہمیں کیس بھی وقت علاقہ بدر کر سکتے ہیں گو کہ یہ اکثر نہیں ہوتا رہتا لیکن پھر بھی ہر وقت ہمارے سروں پر یہ تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ لیکن ہم کر بھی کیا سکتے ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہمارے اپنے آباواجداد کے زمینوں پر ہمارے پیاری حکومت نے عرب، اُزبک، تاجک، چیچن اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے مہمانوں کو لاکھے بٹھا یا ہواہے۔

ہمارےا سکول پر مختلف حکمرانوں کے ادوار آئے ہیں، نواز شریف سے لے کر شیرپاو تک، مولییوں سے لے کر قوم پرستوںتک لیکن مجال ہے کہ ہمارے سکول کی طرف کوئی رُخ کرے۔ ایک مرتبہ این جی او والوں نے جوتیں لانے کا کہا تھا جس کی وجہ سے ہمارے سکول کی رونقیں بحال ہوئی تھیں اور بہت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کروانے لائے تھے لیکن ان کا وعدہ جھوٹا نکلا اور اسی طرح بچے بھی واپس اپنے والدین لے گے۔ ہمارے استاذ محترم کہتے ہیں کہ شاید انہوں نے جوتوں کو ایک اونٹ کی سایز کے چیونٹی کے کمر پر لادھے ہیں اور وہ چینونٹی آہستہ آہستہ اپے منزل کی طرف گامزن ہے۔

اس پرچم کے سائے لے ہم دو ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ایک جیسے کہتے ہیں غریب اور نادار اور دوسرے جسے کہتے ہیں مڈل کلاس اور امیر