تازہ ترین
October 19, 2017

نیشنلزم سیاسی گرائمر کا وہ تاب خوردہ سوال ہے جو دیوہیکل ریاستوں کو لے ڈوبا.اس کی تاب خوردہ پیچیدگی کی تفہیم کیلئے دانش و حکمت کے کتنے کلیے سامنے آئے لیکن بے سود نکلے۔ انقلاب کے سپنے دیکھتی آنکھوں نے  نظریات کی کتنی بہاریں گزار دیں لیکن سب ہی بے ثمر ثابت ہوئے۔ مارکسی اس کی فلسفیانہ گھتی سلجھاتے خود ہی ڈھیر ہوگئے ۔ درست یا درست نہ سہی ؛ اس میں کچھ سیاسی جادو ہے. جو ؛ عام و خاص ؛ سب ہی کو یک جان کردیتا ہے۔

سیاسی اصطلاح نیشنلزم اور زبانوں کےگرائمر  میں کچھ زیادہ فرق بھی نہیں ۔گرائمر کی رو سے اگر نیشن آبجیکٹ ہے، تو جدوجہد یا اسٹرگل ورب کی جگہ سنبھال رہی ہے اور نیشلزم کا نظریہ سبجیکٹ قرار پائے گا۔ یعنی آبجیکٹ ،ورب ،سبجیکٹ ۔ یکساں قاعدہ ہے۔

بلوچی ادب سے تعلق رکھنے والے، ایک نچلے درجے کے سرکاری ملازم نے نیشنلزم کی مختصر سی توجیح یوں پیش کی ً اختر مینگل میرا جیسا مظلوم ہی ہے ، جس زبان میں ، میں شاعری کرتا ہوں ، اس کی وقعت نہیں ، اختر مینگل کی زبان کو کوئی سمجھتا نہیں ۔ ً یاد رہے گزشتہ ماہ بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی مینگل ) کے تربت سے واحد ایم این اے عیسٰی نوری نے جب قومی اسمبلی میں بلوچی زبان میں تقریر کرنا چاہی تو تحریک انصاف کے عارف علوی نے ؛ جو اس وقت اسپیکر کے فرائض انجام دے رہے تھے ؛ انہیں بلوچی میں خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی۔

 تین سردار

فوجی آمریتوں کا سنگ بنیاد رکھنے والے ایوب خان نے بلوچستان کیلئے ایک سدا بہار سیاسی کلیہ دریافت کیا ؛ تین سردار ۔۔۔ مری ، مینگل ، بگٹی ؛ جو پروپیگنڈہ کیلئے پاکستان کے ہر سربراہ مملکت ، چہ آمر و چہ جمہوریت پسند ، سب ہی کے برابر کام آیا ۔

ہر فرد کو بلوچستان کا جو عمومی عکس نظر آتا ہے ؛ وہ  زندگی کی رونقوں سے محروم بے آب و گیاہ ہے۔ پس منظر میں جاگیردارانہ رعب و داب لئے سینکڑوں سردار جھلکیاں دکھاتے ہیں۔ لسبیلہ میں جام و بھوتانی، سراوان میں رئیسانی ، جھالاوان میں زہری، جعفرآباد میں جمالی غرضیکہ چھوٹے بڑے ، انگشت برابر یا فیل حجم  بے شمار سردار نظر آتے ہیں ۔ جو کہیں سرکار کی پشت پر ہیں تو کہیں ان کی پشت پر سرکار نظر آتی ہے۔بلوچستان میں سردار و سرکار میں بال برابر فرق نہیں۔

تین سردار ہیں جو سرکش بھی ہیں اور فرمانبردار بھی نہیں ۔ان تین سرداروں نے کیا شرارت کی ؟ جو معتوب ٹھہرے ؛ مشکوک قرار پائے ۔ نواب اکبر بگٹی جاں سے گئے۔ نواب خیر بخش مری کو  اپنے بیٹے نوابزادہ بالاچ مری و سردار عطاءاللہ مینگل کو اسد اللہ مینگل سے محروم ہونا پڑا۔

بلوچستان کے سینئر صحافی انور ساجدی سابق وزیراعلٰی بلوچستان تاج محمد جمالی کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں “  ہم جب اسلام آباد میں بیوروکریسی سے میٹنگ کرنے جاتے ہیں تو ہمارے پاس سادہ کاغذ ہوتا ہے جو پہلے سے ٹیبل پر موجود ہوتا ہے جبکہ بیوروکریٹس کے پاس بڑی بڑی فائلیں ہوتی ہیں جو جعلی اعداد و شمار سے بھری ہوتی ہیں اس لئے ہم وہاں کوئی بات کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس لئے عام طور پر ہم یہ کہہ کر بھیک مانگتے ہیں اگر آپ بلوچستان کو کچھ دیں گے تو اللہ آپ کا بھلا کرے گا اور اگر نہیں دیں گے تو اللہ آپ کا زیادہ بھلا کرے گا۔ ان ( تاج محمد جمالی ) کے مطابق ان بیوروکریٹس کا علاج تو نواب اکبر بگٹی جانتے تھے کیونکہ وہ ہماری طرح خالی ہاتھ نہیں ہوتے تھے اس لئے وہ ان کےسامنے بھیگی بلی بنے رہتے تھے۔ تاج محمد جمالی کی یہ بات اپنی مثال آپ ہے کہ جب تک اکبر خان،خیر بخش اور عطاء اللہ زندہ ہیں ہماری دال دلیا بھی چلتے رہیں گے اس کے بعد سب کے چولہے بجھ جائیں گے۔ ” ( نواب اکبر بگٹی، قتل کیوں کیا گیا؟ / انور ساجدی ، ص 94 )

 عینک کی عقب سے جھانکتی دونوں آنکھوں کو ناک کی سیدھ پر رکھ کر دیکھنے والے احسان شاہ ایک زیرک سیاستدان ہیں۔“ مزاحمت کا فائدہ ہمیں ( پارلیمنٹرین ) کو زیادہ پہنچا، بلوچستان کی شورش کے باعث ہم توجہ کے مستحق ٹھہرے ” سابق وزیر خزانہ احسان شاہ نے ایک نجی گفتگو میں مجھے بتایا۔

برطانوی دور میں بلوچستان انگریزی عملداری میں شامل اور ان کی حاکمیت کے زیر سایہ تھا۔ بلوچ معاشرے پر اس حاکمیت کے دور رس اثرات یوں مرتب ہوئے کہ انیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں جب انگریز بلوچستان میں وارد ہوئے اُس زمانے میں بلوچ معاشرے میں سماجی سلسلہ مراتب اس قدر منظم و موروثی نہیں تھے ۔ خان ، سردار کی سردارانہ حیثیت موروثی کے بجائے تاحال قبائلی تنظیم جرگہ کی جانب سے ایک اعزاز شمار ہوتا تھا۔ اس سلسلہ مراتب میں پہلی دور رس اور گہری دراڑ  اسی زمانے میں پڑی ۔ سردار و نوابین ہمیشہ کیلئے اشرافیہ و امراء ٹھہرے۔

بلوچ طبعاً آزاد منش ہیں ۔ کم و بیش ایک سو چھ سال کا عرصہ ۔۔۔ انیسویں صدی کی چوتھی دہائی 1842 سے 20 ویں صدی کی چوتھی دہائی 1948 تک  ۔۔۔ بلوچستان میں بلوچ قوم کے گرد گھومنے والی قوم پرستانہ سیاست کا ایک ایسا دور چلا جسے بلوچ نیشنلزم کا دوسرا فیز شمار کیا جاسکتا ہے۔ اسی زمانے میں انگریزوں نے بلوچوں کوبرٹش فوج میں بھرتی کی کوشش کی۔ بلوچ  بھرتی بھی ہوئے لیکن چونکہ وہ طبعاً آزاد منش ہیں ، پیشہ سپاہ گری کی پابندیاں ان کو نوکر منش بنانے میں ناکام رہیں ۔  “ آئیڈیا آف پاکستان ” نامی کتاب کے مصنف امریکی دانشور اسٹیفن فلپ کوہن اپنی کتاب “ پاکستان آرمی ” میں لکھتے ہیں کہ “  جب انگریزوں نے سندھ فتح کیا تو بلوچوں کو فوج میں بھرتی کیا اور ان کو خلیج فارس ، چین ، افغانستان ، جاپان ، ایبی سینا اور خود ہندوستان میں رکھا پھر انہیں نکال دیا گیا اور ان کی جگہ پٹھانوں اور پنجابی مسلمانوں کو بھرتی کیا گیا۔۔۔ پنجابیوں میں نظم و ضبط کی پابندی زیادہ تھی، بھرتی بھی آسان ہوتی تھی اور خانہ بدوش بلوچوں میں بغیر اطلاغ ڈی کیپ کرنے کی پریشان کن عادت تھی ۔” ( اسٹیفن پی کوہن ، پاکستان آرمی ص 42 ) درحقیقت یہ وہ وقت تھا جب بڑی طاقتوں سے میل ملاپ کے راستے کھلے تھے۔ بلوچوں نے یہ موقع گنوادیا ۔غالباً اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے فرمانبرداری، غیر تحریر شدہ شرط تھی ۔ بلوچوں کی طبعی آزاد منشی اپنے وقت اور آئندہ کی طاقتوں کیساتھ راہ و رسم میں ان کے آڑے آگئی جبکہ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر مری بلوچوں نے برطانوی فوج میں بھرتیوں کی بھرپور مزاحمت کی۔ نوآبادیاتی فوج کیلئے لڑنے کے بجائے اپنی خانہ بدوشانہ زندگی میں خوش رہے۔

 بلوچ سیاست کا خام نہیں ، پختہ خیال یہی ہے کہ بلوچوں کی قسمت کی خرابی کا آغاز 1948 کو ہوا جب بلوچستان کو بزور پاکستان سے الحاق پر مجبور کیا گیا۔ بلوچ سیاست میں پاکستان کیساتھ الحاق کو خرابیوں کی ماں  تصور کیا جاتا ہے۔ جب بلوچستان کیخلاف پہلا فوجی آپریشن کیا گیا تاآنکہ یہ سلسلہ پانچویں مرتبہ فوج کشی تک جاری ہے۔ پاکستان بننے کے بعد تین سردار منظر عام پر آتے ہیں ۔ سب سے بڑے قبیلے مری کا نواب ، خیر بخش مری ، دوسرے بڑے قبیلے کا نواب ،  اکبر بگٹی اور مینگل قبیلے کا سردار ، عطاءاللہ مینگل ۔

نواب اکبر بگٹی

سیستان کی گرد آلود فضاؤں سے نکل کر تاریخ کےکسی زمانے میں نواب اکبر بگٹی کے اجداد ڈیرہ بگٹی آکر، آباد ہوئے۔ تاریخ پر مفروضوں کی گرد چھائی ہوئی ہے ، ورق ورق الٹنا آسان نہیں لیکن نواب اکبر بگٹی کی سیاسی تاریخ اس قدر گرد آلود نہیں ۔ بلوچستان کے پاکستان کیساتھ الحاق کے حق میں انہوں نے 1948 میں ووٹ ڈالا ۔ یہ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز تھا۔ جس کا خاتمہ 26 اگست 2006 کو ہوا ۔ ان کی سیاسی زندگی 58 سال پر محیط رہی۔ جس میں وہ وفاقی وزیر مملکت برائے دفاع ، گورنر اور وزیر اعلٰی بلوچستان بھی رہے۔ ان کی سیاسی زندگی کا بیشتر حصہ مرکز سے چپقلش ، مذاکرات ، قید و بند میں گزرے ۔ ان برسوں میں انہوں نے حتٰی الامکان وفاق کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ مضبوط پاکستان کیلئے اکائیوں سے بنا کر رکھے اور انہیں ساتھ لے کر چلے۔ وہ ناکام رہے کیونکہ ہیئت حاکمہ یا مقتدرہ کو شاید اکائیوں سے بناکر رکھنے کی نہیں، دبانے کر رکھنے کی عادت پڑگئی ہے۔

پاکستان ائر فورس کے ریٹائرڈ سینئر افسر سید سجاد حیدر اپنی کتاب “ شاہین کی پرواز ” میں لکھتے ہیں “ بگٹی قبیلے کے سردار نواب محراب خان ( نواب اکبر بگٹی کے والد ) کے تعمیر کروائے گئے بگٹی کمپلیکس میں ، ایک چھوٹے سے ٹین کی چھت والے گھر میں منتقل ہونے سے قبل ، ہم بگٹی ہاؤس میں پلے بڑھے۔۔۔ نواب محراب خان بگٹی میرے والد کے قریبی دوست تھے۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ نواب صاحب جب کبھی کوئٹہ تشریف لاتے، بلاناغہ میرے والد کیساتھ دوپہر کا کھانا تناول کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ میری ہمشیرہ اور میں نے اپنا بچپن بگٹی ہاؤس میں بسر کیا۔ جہاں بعد میں نواب اکبر بگٹی اپنے خاندان کے ہمراہ آخری دن تک رہائش پذیر رہے۔۔۔ مجھے اکبر بگٹی ایک رعب دار اور سخت شخص کی حیثیت سے یاد ہیں، جو مجھے ہمیشہ مریل اور دبلا پتلا لڑکا کہہ کر پکارتے تھے۔ ( شاہین کی پرواز ، سید سجاد حیدر ، ص 26 و 27 )

سلویا میتھیسن اپنی کتاب “ دی ٹائیگرز آف بلوچستان ” میں نواب اکبر بگٹی کی شخصیت کا بیان ان الفاظ میں کرتی ہیں “ دراز قد ۔۔۔ پھیلے ہوئے کندھے والا سر ۔ اس کی آنکھیں کسی محبوب عورت کی چمکدار آنکھوں کی طرح پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس نواب کا قد چھ فٹ سے متجاوز تھا۔ اس کا شاندار سر ، چمکدار گھنگریالے بالوں سے بھرا ہوا تھا اور سر کے بال داڑھی سے باہم ملے ہوئے تھے ۔ نہایت متجسس آنکھیں تھیں اور خوشگوار منہ ( جو کہ مڑی ہوئی اعلٰی مونچھوں کے نیچے دیکھا جاسکتا تھا جس کے نیچے داڑھی بھی تھی ) چہرہ عمدہ اور واضح دکھائی دے رہا تھا ۔ تقریباً نہیں بلکہ  حقیقت میں قابل دید تھا ” ( ص 2 ) نیلام گھر ( ٹی وی شو ) میں ایک سوال پوچھا گیا کہ وہ کون سا لیڈر ہے جس کی صورت شیر کے مشابہہ ہے ، جواب میں ایک آدمی نے کہا نواب اکبر بگٹی تو وہ انعام کا حقدار ٹھہرا۔ ” ( بگٹی قبیلہ ، کامران اعظم ، ص 129 )

بلوچستان کے مشرق میں واقع ڈیرہ بگٹی اور مشرقی یورپ کے ملک بوسنیا میں کچھ بھی مشترک نہیں ۔ بس دونوں مقامات کو جنرلوں کے ہاتھوں یکساں مار پڑی۔ سابق یوگوسلاویہ کے سرب جنرل ، جنرل ملاویدک 1990 کی دہائی کی بالقان منطقہ کی جنگ کے دنوں میں ایک دن اپنے مورچے کے سامنے واقع پہاڑی پر ایک گھر کو نشانہ پر لیتا ہے۔ گھر میں رہائش پذیر لوگوں کو صرف پانچ منٹ دیئے جاتے ہیں کہ اپنے خاندان کی یادگار تصاویر لےکر گھر خالی کردیں کیونکہ جنرل ملاویدک اس گھر پر راکٹ فائر کرنے کا پورا ارادہ کرچکے تھے ۔ بالقان منطقہ کی تاریخ کی آنکھیں اس دن اس واقعہ پر بےپناہ روئی ہوئی ہونگی ۔ تاریخ  حملہ آور اور صاحبخانہ دونوں سے شناسائی رکھتی تھی۔ ایک سرب جنرل ہے اور دوسرا البانوی نژاد بوسنین ۔ جنگ سے قبل دونوں کا رشتہ دوستی کا تھا جو جنگ کے دنوں میں دشمنی میں تبدیل ہوگئی تھی ۔

نواب اکبر بگٹی کو بھی دنیا میں سب سے زیادہ پیار اپنے پہاڑوں سے تھا ۔ آخری سانس بھی لی تو ان ہی پہاڑوں کی آغوش میں ۔

کیا یہ قصہ دور کہیں کی کہانی ہے ؟

جنرل مشرف نے،  مری و بگٹی علاقہ کے سنگم پر جنرل ملاویدک بن کر ، ویسے ہی نواب بگٹی کو ہٹ نہیں کیا ؟

نواب خیر بخش مری

نواب خیر بخش مری جدید بلوچ نیشنلزم کے فکری منبع ہیں۔ “ ۔۔۔ دراز قد ، خوش طبع، فہم و فراست کا مالک اور گمراہ کن حد حلیم الطبع مری ایک خوش بیان مقرر اور قوم پرست تحریک کا نقیب ہے۔ تاہم اسے روزمرہ کی سیاسی سرگرمیوں اور مشکلات میں اکثر اوقات متذبذب اور بعض اوقات سادہ لوح تک پایا گیا ہے وہ بین الاقوامی دانشورانہ ذوق کا مالک ہے۔۔۔ تاہم اس کا طرز زندگی ہر لحاظ سے بلوچ ہے۔۔۔ ” ( امریکی صحافی سلیگ ہیریسن ، “ ان افغانستانز شیڈو: بلوچ نیشنلزم ص 55 )

نواب اکبر بگٹی کے برعکس ، نواب خیر بخش نے اسلام آباد پر ۔۔۔ چند مستثنیات کے علاوہ ۔۔۔کبھی اعتماد نہیں کیا جبکہ پاکستانی ہیئت حاکمہ، مقتدرہ نے ہمیشہ ان کو ، ان کے قدآور سیاسی دوستوں، نواب اکبر بگٹی و سردار عطاءاللہ مینگل، کے درمیان ، سب سے خطرناک خیال کیا۔  رواں سال کے انتخابات سے چند ماہ قبل پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک کتاب لکھ ڈالی۔ کتاب کیا تھی، میڈیا کے زور پر زبان زد عام و خاص ہوکر غائب ہوگئی۔ اپنی کتاب “ یہ خاموشی کہاں تک؟ ” میں وہ لکھتے ہیں۔ “ جون 2002 میں بلوچستان سے متعلق آئی ایس آئی سے ایک رپورٹ ملی کہ خیر بخش مری کو ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را پیسے دے رہی ہے۔ بگٹی صاحب نے پہلے ہی خاصے مسائل پیدا کررکھے تھے اور گیس کی کھوج شروع نہیں کرنے دیتے تھے۔ اس رپورٹ میں اس سلسلے کی بھی تفصیلات تھیں۔ پھر دو دن بعد بتایا گیا کہ خیر بخش مری نے اپنے قبیلے کے 200 لوگ بگٹی صاحب کی حفاظت کیلئے فراہم کئے ہیں۔ بگٹی صاحب کیساتھ یہ مسائل چلتے رہے۔ ہمیں خبریں ملتی رہتیں کہ بلوچستان سے کچھ اور اہم لوگ بھی افغانستان جاتے اور وہاں سے انہیں امریکہ کی طرف سے پیسے دیئے جاتے۔ ” ( ص 258 )

وہ خاموش طبع ہیں۔ میڈیا پر زیادہ اعتبار نہیں کرتے ۔ ان کو دوسروں کی گفتگو کے سیاق و سباق سے بریدہ مطالب نکالنے کا الزام دیتے ہیں۔ وہ حُسن و دلکشی کا ایک تراشیدہ نمونہ ہیں ۔ ستواں ناک کے نیچے دہان بالکل بچوں جیسا ہے جہاں سے نپے تلےسیاسی الفاظ نکلتے ہیں۔ وہ گفتگو میں کہیں، کہیں آپ کو بھی شریک کرتے ہیں۔ فکرمندی سے سوچتے ہوئے ، وہ آپ پر کوئی گہرے معنی واضح کرنے کیلئے ، کوئی لفظ پوچھتے ہیں۔ گول چہرے پر سفید ریشی نے بزرگسال سا تاثر چھوڑ رکھا ہے۔ گھورتی آنکھوں کیساتھ جب گفتگو کرتے ہیں تو اس میں خلاء ( اسپیس ) اتنا پیدا کرتے ہیں کہ سامع درمیان میں کچھ اپنا بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ پورے یقین کیساتھ ادا کرتے ہیں ، جیسے تاریخ کے بڑے کردار وقت آنے پر اپنے فلسفہ کی جیت پر یقین رکھتے تھے۔ انہیں سنتے ہوئے ، آپ کو گمان گزرتا ہے ۔ آپ ایک ایسے شخص کے سامنے بیٹھے ہیں جو جنگ کے میدان سے کچھ دیر کیلئے آپ کو کچھ کہنے آیا ہو۔ ان کی گفتگو میں لفظ “ دشمن ” آپ کو بار بار سنائی دیتا ہے۔

 محدود قوت کیساتھ ، بڑی طاقت سے کیسے لڑا جاتا ہے؟ اکثر خیال کیا جاتا ہے نواب خیر بخش مری نے مرغوں کی لڑائی سے یہ ہنر سیکھا اور اسے سیاست کے میدان میں آزمایا۔یہ نیم سچ ہوسکتا ہے، سراسر درست نہیں۔ وہ چیونٹی کی جنگ و مرگ کے فلسفہ پر یقین رکھنے والے صابر سیاستدان لگتے ہیں۔ زندہ و مردہ جسم کیخلاف گروہ کی صورت میں یورش کرنا۔ کسی ایک مرکزیت کے تحت سالہا سال معمولی کامیابیاں حاصل کرنا تاآنکہ وہ زندہ یا مردہ جسم نیست و نابود ہوجائے۔چیونٹیوں کو ہم روز یہ عمل کرتا دیکھتے ہیں۔

70ء کی دہائی میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ قبائل کو سیاسی تنظیم کے مضبوط نظم و ضبط کے ڈھانچے کے مقابلے میں زیادہ موثر و حاوی تصور کرتے ہیں۔ ممکن ہے اس کی کچھ ٹھوس وجوہات ہوں۔ وہ اپنے قبیلہ ۔۔۔ مری ۔۔۔ کی بلوچ نیشنلزم کے مسلح ڈھانچے کے ہراول دستہ کے طور پر تربیت کرتے رہے۔

“ کہنے کو مری سب سے بڑا بلوچ قبیلہ ہیں لیکن سب سے زیادہ پراسرار بھی اسی قبیلے کو بناکر پیش کیا گیا ہے۔ جتنا بڑا قبیلہ ہے اتنی ہی کم تحقیق ہوئی ہے۔ اس تحقیقی کمیابی کے نتیجے میں طرح طرح کے قصے کہانیاں مشہور ہیں۔ کوئی انہیں لٹیرا سمجھتا ہے، کوئی نپٹ جاہل، کوئی انہیں پہاڑوں کے اندر الگ تھلگ رہنے والی مخلوق گردانتا ہے تو کوئی پتھر کے دور کی تہذیب کا نمائندہ کہتا ہے۔ ”

“ بات یہ ہے کہ جب کوئی قبیلہ کسی بھی طرح کی سماجی و سیاسی سودے بازی کیلئے آمادہ نہ ہو، اجنبیوں سے گھلنے ملنے میں زیادہ دلچسپی نہ رکھتا ہو، طبعاً اتنا آزاد منش ہو کہ دوسروں کے تصور ترقی کو بھی ہضم نہ کرسکے، کسی اجتماعی سیاسی بہاؤ کا حصہ بننے پر تیار نہ ہو، جب وہ ہر اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اور ہر اسٹیبلشمنٹ اس کے بارے میں مشکوک ہوتو پھر وہی ہوتا ہے جو تاریخ مسلسل مری قبیلے کیساتھ کرتی آرہی ہے۔”( سیلاب ڈائری ، وسعت اللہ خان ، ص 211 ) “ تاریخ نے مریوں کو غالباً اس لیے راندہ درگاہ کرنے کی کوشش کی کہ مورخ زیادہ تر سرکاری درباری لوگ گزرے ہیں۔ مریوں پر جب بھی کسی نے خود کو جبراً تھوپنے کی کوشش کی انہوں نے مزاحمت کی اور مزاحمت کرنے والوں کو کوئی بھی حکمراں یا درباری مورخ پسند نہیں کرتا۔ ” ( سیلاب ڈائری ، وسعت اللہ خان، ص 213 )

سردار عطاء اللہ مینگل

سردار مینگل کے چہرے پر طاری ضبط سے لگتا ہے وہ ہمہ وقت سنجیدہ رہنے والی شخصیت ہیں۔ یہ ضبط درحقیقت کسی نووارد کو سمجھنے کی کوشش کا حسیاتی حصہ ہے۔ جب وہ آپ کو سمجھیں گے، آپ ان کی حس مزاح سے بہہ کر آنیوالے محاوروں پر حظ اٹھائیں گے۔ داڑھی نفاست سے تراشیدہ اور مونچھیں تاؤدار ہیں۔ جسمانی لحاظ سے اپنے دونوں رفیقوں۔۔۔ نواب بگٹی و نواب مری۔۔۔ کی نسبت دبلے پتلے رہے ہیں۔

بہرلحاظ، سردار مینگل کی سیاسی زندگی پر دوستوں ۔۔۔ خصوصاً نواب مری ۔۔۔ کے نظریات کا گہرا اثر رہا ہے۔ اصول و نظریات کی عمارت پر کھڑی سیاست کے تلخ تجربات نے ان سے بہت کچھ چھین لیا ہے۔ جن میں ان کی جوانسال اولاد اسداللہ مینگل کی جبری گمشدگی سمیت ان کی شخصیت کا نرم پہلو بھی شامل ہے۔ 90ء کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے اپنی راہیں الگ کرلیں جن پر وہ اب چل رہے ہیں۔ نواب بگٹی و نواب مری پر جو افتاد گزشتہ چند سالوں کے دوران پڑی، سردار مینگل کا منطقہ ۔۔۔ 73ء کی شورش کا دوسرا بڑا مرکز ۔۔۔ جھالاوان خاموش رہا ہے۔ وہ گویا خود کو سمیٹ کر موجودہ نظام کے تحت چلنے والی سیاست کی رو میں ۔۔۔ گندگیوں سے دامن بچاکر ۔۔۔ بہہ رہے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے قائد سردار اختر جان مینگل ان کے سیاسی وارث ہیں۔

سردار عطاء اللہ مینگل اپنی سیاست کے دوسرے مرحلے میں۔۔۔ جب 1973 ء میں ان کی منتخب حکومت کو ذوالفقار علی بھٹو نے ختم کردیا تھا۔۔۔ کسی بھی زمانے سے زیادہ سخت گیر رہنما بن کر سامنے آئے تھے۔ دو عشروں تک ہر سیاسی افتاد سہہ گئے۔ ان دنوں ان کی رہائش لندن میں تھی اور یہاں، بلوچستان میں، بلوچ سیاسی کارکنان  ان کی آمد کو انقلاب کی برآمد سے تعبیر کرتے تھے۔

 سردار عطاء اللہ مینگل کے صاحبزادہ سردار اختر جان مینگل کا بیشتر وقت، بلوچستان کے رواں حالات کے سیاسی دباؤ کے اثرات زائل کرنے کے سلسلے میں، اپنے پارٹی قائدین و کارکنان کو قائل کرنے میں گزرتا ہے۔ ان کے دوسرے صاحبزادہ میر جاوید مینگل، جو نواب خیر بخش مری کے داماد ہیں ، بلوچ مزاحمت کا حصہ بن چکے ہیں۔

تین سردار ۔۔۔ فوجی آمر ایوب خان کے زمانے میں نوجوان تھے ۔۔۔ اب دو پیران سال ہیں۔ نواب بگٹی باقی نہ رہے۔ پاکستان کے سیاسی حالات بدلنے نہ تھے اور بدلے بھی نہیں لہٰذا سیاسی انتشار کو تاحال عروج حاصل ہے۔ تینوں سرداران کے سیاسی وارث ۔۔۔ نوابزادہ حیر بیار مری ، نوابزادہ براہمدغ بگٹی ، میر جاوید مینگل ۔۔۔ اپنے اجداد کی سیاسی شاہراہ پر سفر کررہے ہیں۔ جہاں سیاست کی عمارت کی ہر اینٹ جھوٹ، ذاتی اغراض، نوکرمنشانہ طبع پر ایستادہ ہو وہاں چند ایک لوگ ایسے بھی نکلتے ہیں جن کی سرشت میں ایسی سیاست سے سمجھوتہ شامل نہیں ہوتا۔

  • aina syeda

    Thanks for a detailed article on Baloch Politics ! its Worth reading !