تازہ ترین
October 19, 2017

ولی خان دومڑ

آج کل سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر جناب غامدی صاحب کے پشتون قبائلی معاشرے کے بارے میں ارشادات کے خلاف پشتون نوجوانوں ، صحافیوں اور دانشوروں میں کافی غصہ اور ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے جب سے انگریز ی استعمار نے اپنے لئے بہتر خدمت اور فرمانبرداری کے صلے میں افغانستان اور ہندوستان کے کچھ حصے الگ کرکے اپنےوفاداروں کو ایک ریاست کی شکل میں دیئے تب سے پشتونوں کی بدقسمتی بھی شروع ہوئی اور انکے خلاف پروپیگنڈا بھی ۔
اس ریاست پرجسکی بنیادیں لاکھوں انسانوں کے خون کے گھاڑے سے کھڑی کیں گیں (جو ابھی تک ہل بھی رہی ہیں ) جب پنجابی نے صرف اپنا حق جتانا شروع کیا تو خود آقا اور دوسری قوموں کو کمتر سمجھنے لگا قبضہ گیری کے علاوہ اس نے قومو ں کا تمسخر بھی اڑانا شروع کیا پاکستان بننے کےفوری بعد پشاور میں بابڑہ کا قتل عام اور ریاست قلات پر فوج کشی یہ انکی رحم دلی اور انسان دوستی کی پہلی مثال ہے اور پھر بنگالیوں کے بارے میں یہ رویہ اختیار کیا گیا کہ یہ ڈیڈھ فٹیے اور لاغر آرمی میں بھرتی کے معیار پر پورا نہیں اترتے لہذا انہیں امور مملکت چلانے سے دور ہی رکھا گیا 70اب کی دہائی میں الشمس ، البدر اور بہادر فوج نے جو ہزاروں بنگالی لڑکیوں اور عورتوں کی ابروریزی کی اور بنگالیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا وہ انکی رحم دلی کا منہ بولتا ثبوت ہے پھر نوے کی دہائی میں جب کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے دلوں میں اپنی دہشت بٹھانے کیلیئے انکے سر قلم کرنے والے بھی پنجاب کے لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے سر فروش نہیں بلکہ پشتون تھے ، پشتونوں کی پاکستان میں حثیت ہی کیا ہے ؟

ہمارے وطن میں دنیا جہان کے وحشیوں اور انسان کش مخلوق کو بسا کر ہمیں اپنے ہی وطن میں ذبح کرواکر سنگ دلوں کا طعنہ بھی ہمیں دیا جارہا ہے ملٹری سول بیوروکریسی میں ہمارا کتنا حصہ ہے ؟ ہماری حیثت ایک چوکیدار کی ہے چائے تمہا رے دروزوں کی چوکیداری ہو یا تمہاری چاونیوں کی ۔۔۔ ؛ پشتو نوں کیلئے صرف فر نٹیر کانسٹیبلری ( نیم فوجی دستوں ) کے دروازے کھلے ہیں اس میں بھی پشتون چائے جتنا بھی بہادری کا مظاہرہ کرے یا اپنی ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لے آئے تب بھی ایک حوالدار کی رینک تک ہی ترقی کرسکتا ہے اس آگے بالکل نہیں کیونکہ اس اوپر کے آفسران آرمی سے ایف سی میں آتے ہیں ایف سی کی ذمے واری ہے سرحدوں کی حفاظت کرے اور چاؤ نیوں کے اندر سؤئمینگ پولز میں تیراکی اور ڈآنس کلبوں میں تفریح کے مزے لینے والی ریگولر آرمی کو ڈسٹرب کرنے کا موقع کسی کو نہ دے ، اس ملک میں پشتو نوں کیلیئے بوٹ پالش ، چوکیداری اور قلی کے کام ہی رہ گئے ہیں ہم کبھی ایسے تو نہ تھے ہم سلطنتیں بنانے والے لوگ تھے ہم کوئی ملنگی اور مولا جٹکی اولاد نہ تھے ، فرقہ پرستی ، بنیاد پرستی کو تو ہم جانتے بھی نہ تھے ،جو شکل قبائلی پشتون معاشرے کی ہے اسی 80 کی دہائی کے بعد تم ہی سے ہمیں تحفے میں ملی ہے اس سے پہلے تو پشتون معاشرے مہارا ملا اور پنڈت ہی جگہ چائے پیتے تھے جس جرم کا الزام ہم پر لگایا جارہا ہے اس کے تمام مراکز تو آج بھی پنجاب میں موجود ہیں القاعدہ کی تمام موسٹ وانٹڈ لیڈرشپ کہاں سے گرفتار ہوئی ۔۔۔۔۔ ؛آیا پنجاب سے نہیں ؟

اب تمہارا عصمت اللہ معاویہ ، حافظ سعید ، اشرفی ، طارق جمیل ،مسلم لیگ ، اور سیکولر قوتیں ، دانشور اور صحافی اور میڈیا پنجاب کے مفادات کیلئے ایک ہو اور ہمارا مسلم لیگی و سونامی سیاستدان ، ملا تمہارا ایجنٹ ہو ، عرب کا ایجنٹ ہو ، وطن دشمنی پر تلا ہوا ہو ، عرب اور پنجابی دہشت گردوں کو وطن میں بساکر انکو غیروں کے حوالے کرنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتا ہو ، تو اس میں پشتون قبائلی معاشرے کا کیا قصور ؟ قبائل کہاں ہیں ؟ قبائل تو اپنے ہی وطن میں مہاجر ہیں ، تمہارا عصمت اللہ معاویہ ، اشرفی ، طارق جمیل وغیرہ امن کے پیامبر ، اور ہمارا کوئی نو جوان صحافی قبائلی فاشیسٹ اور ملک دشمن ، تمہاری وینا ملک اللہ والی ، تمہاری میرا فلاحی خدمت کرنے والی عظیم انسان اور ہماری بچی ” ملالہ یوسفزئی ” فاحشہ اور مغرب کی ایجنٹ ۔۔۔ ؛ یہی تضاد ہے ہمارے اور تمہارے بیچ ، جو نہ جانے کب تک چلے ؟

  • http://www.usmanghaziblog.wordpress.com/ Usman Ghazi

    تحریر لکھنا اور تحقیق کرکے تحریرلکھنا ۔ ۔ یہ دریا کے دوکنارے ہیں، محترم پاک فوج میں پختون کادوسرابڑاشئیرہے
    فوج میں پنجابی زیادہ کیوں ہیں؟ سادہ سی وجہ ہے، پاکستان کی 60فیصد آبادی پنجابیوں پر مشتمل ہے، اب ایسے میں فوج میں پنجابی نہیں ہوں گے تو کون اکثریت میں ہوگا
    فوج کی بھرتی کا تعلق علاقائی مزاج سے بھی ہے، میں اردوبولنے والا ہوں، ہمارے یہاں فوج میں جانے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، ایک جہلم کا دیہاتی لڑکا سپاہی بننے کے سپنے کے ساتھ بڑاہوتاہے اور حوالدار کوسپر اسٹار سمجھتا ہے، یہ مزاج کی بات ہے
    پشتون اتنے گئے گزرے نہیں ہیں جیسے آپ نے بیان کیے، جنرل ایوب خان سے لے کر شاہد خان آفریدی تک پاکستانیوں نے پشتون کو اپنا ہیروبنایا ہے، یہ حکمرانوں کی نسل ہے، اس کی فطرت میں بوٹ پالش کرنا نہیں، اگر ان میں کچھ لوگ بوٹ پالش کرتے بھی ہیں تو یہ کوئی گناہ نہیں، محنتی لوگ ہیں، جفاکشی ان کی فطرت ہے، یہ پہاڑوں کے بیٹے ہیں، محنت میں شرم محسوس نہیں کرتے
    جس یقین سے آپ نے بنگالی لڑکیوں کی عصمت دری کا ذکرکیاہے، اس پر حیرت ہے، عصمت دری کے اعداد وشمار کو اگردرست مان لیاجائے تو پاک آرمی کے ہرجوان نے بنگال میں یومیہ 17 لڑکیوں کاریپ کیاہے، یہ قصے کولکتہ کے ریڈیوسے نشر ہوتے تھے، خود بھارتی جرنیل ان قصوں کو اپنی کتابوں میں جنگی تدبیر لکھ چکے ہیں، اس قسم کی بودی بحث سے کوئی کچا ہی متاثر ہوسکتاہے

  • masooma

    PASHTUNO BALOCHON AUR SINDHYON KO GHULAMI KI ZANJEERAIN TOOR DENI CHAIYEAIN .KUB TAK HUMAIN GHADAR KAHA JAI GA ?KUB TAK PUNJABI HUMAIN HUMARI 5000SALL PURANI ZAMEENOON PER MOJODGI KO APNA AHSAAN SAMAJHTAY RAHAIN GAY? YEH ZAMEEN HUMARI HAI PAKISTAN HUMARAH HAI PUNJAB KO HUMARI FITRAT NAHI PASAND TU ELEHDAH HO JAI HUM TEENOON SATH RAHAIN GAY.