تازہ ترین
October 19, 2017

عینا سیدہ

 

آپ نے کبھی سوچا کہ اگرآپ کو پاکستان سے باہر جانے کا ایک یقینی موقعہ دیا جاۓ تو آپ کہاں جانا پسند کریں گے؟ آپ مسلمان ہیں صبح سے شام ہوجاتی ہے مگرآپ کا ہر جملہ اپنےارد گرد کے مسلمانوں کو یہ بتانے میں گزر جاتا ہے کہ کتنی لمبی داڑھی جائزہے اور کتنی مونچھیں پانی میں ڈوبنی حرام ہیں ، دوپٹے کی لمبائی کیا ہونی چاہیے اور کس طرح با لوں کی حجاب میں سے نکلی ایک لٹ بسوں میں دھکے کھاتی لڑکی کو جہنم میں پہنچاسکتی ہے.آپکے لیۓ شراب، سور تو پکے حرام ہیں مگررشوت، سفارش،دھمکی اور جھوٹ بھی زبانی کلامی  گناہ ہی ہیں اور خواتین کے با رے میں تو آپکو یقین ہے کہ انکے”غیراسلامی کرتوت ” اوردین سے دوری کی وجہ سے ملک پرتازہ بتازہ عذابوں کا ایک سلسلہ جاری و سا ری ہے.

چلیے پھر آج آپکو سنہری موقعہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس ملک سےکوچ کرجائیں  کسی ایسےملک کی طرف جہاں دین سے دوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ! اٹھیے کہ ہم آپ کو آپکےخاندان سمیت سعودی عرب یا ایران چھوڑ آتے ہیں.

جی ہاں ! ہم نےآپکی راۓ اس بارے میں لینےکا وعدہ کیا تھا مگرآپکی اسلام سے محبت آپکی شخصیت سے پھوٹ پھوٹ کرنکلتی دیکھ کر ہمیں یہ یقین ہو چلا ہے کہ آپ کسی مثالی اسلامی ملک میں جہاں چاروں طرف  اسلام ہی اسلام ہو، جانا پسند کریں گے ! کیا ؟ کیا فرمایا آپ نے ؟ آپ صرف برطانیہ ،کینڈا، امریکہ یا مغربی یورپ جانا پسند کریں گے ؟ کیوں جی ! وہاں تو شراب، شباب اورسورکے کبابوں کی فراوانی ہے آپکے ایمان کا کیا ہوگا ؟

اچھا توآپکے بقول آپکو وہاں مذہبی آزادی ہے آپ سور کھائیں یا اسکو دیکھ کر منہ بنائیں کوئی کچھ نہیں کہتا ! آپ گوری کی گوری گوری با نہوں کو گھوریں یا لمبی لمبی ٹانگوں کو یا پھراپنی سانولیوں کو ہاتھ منہ ” لپیٹے” دیکھ کر فخر سے اکڑیں کوئی تعزیرنہیں!

تو ثابت یہ ہوا کہ آپ اپنے لیے تو”کھلا ڈلا” ماحول پسند کرتے ہیں مگر دوسروں کے ناک منہ پرمذھب کے تکیے رکھ کر انکا دم گھوٹنا چاہتے ہیں. آپ دین کا نام لےکراپنی جھوٹی آنا کو تسکین پہنچانا چا ہتے ہیں. اپنے اردگرد ہر رنگ ، نسل،مذھب اورمختلف روایات پرعمل کرنے والوں کو پاکرآپکوآزادی کاوہ دلفریب  احساس ہوتا ہے جودین کوسختی سے ملکی قوانین کا حصہ بنانے والے ملکوں میں نہیں ہوتا. آپ بھی چاہتے ہیں کہ کسی مذھب کے قوانین آپ پر نہ تھوپے جائیں ! آپ تہہ  دل سے یہ چاہتے ہیں کہ مغربی معاشرہ آپکی خواتین کو مجبور نہ کرے کہ وہ مغربی لباس زیب تن کریں لیکن اپنے معاشرے میں آپ بےچاری گوری جرنلسٹ کو بھی نہیں بخشتے اوراسکوکسی قانون کے تحت نہ سہی مگراپنے بدصورت رویوں سےاس بات پرضرورمجبور کردیتے ہیں کہ وہ شلوار کرتا ، دوپٹہ ، چادرپہن کرہی آپکے بازاروں ، محلوں کی خبریں اکھٹی کرسکتی ہے وگرنہ نہیں!

آپکا بس نہیں چلتا کہ اسکوبھی اسلامی ، پاکستانی برقع پہنا دیں اور پھرمحترمہ کے مسلمان و پاکستانی و مرد جرنسلٹ ساتھی انکو ستایش بھری نظروں سے دیکھیں گےجیسےوہ آج سے پہلے اپنا مغربی لباس پہن کربہت بڑا گناہ کر رہی تھیں. آپ نے کبھی سوچا کہ آپکی خواتین کے ساتھ اگر مغربی مرد یہی سلوک کریں اور انکو جتلا ئیں کہ مغربی لباس نہ پہن کر وہ کو ئی گناہ سرزد کر رہی ہیں! کیا آپ پھر بھی برطانیہ اورکینڈا جانا ہی پسند کریں گے؟ بالکل! مجھے معلوم ہے کہ وہاں ہر قسم کا لباس پہننے کی آزادی ہےاسی لیے آپ وہاں دوڑے جاتے ہیں اور اگر آپ جان ہی گیۓ ہیں کہ آپ اپنی شخصی آزادی کو کتنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو کس نے مجبور کیا ہے کہ دوسروں کواس شخصی آزادی کی نعمت سے محروم کریں؟ جب آپ اپنے آپکو اسرائیل ، سعودی عرب اورایران جیسے متمول مملک میں قیدی سمجھتے ہیں اورانکے مقابلے میں ایسی ریاستوں کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں مذھب اور ریاست ایک دوسرے سے لا تعلق ہوں تو پھر آپ پاکستان کوکیوں اپنوں اور دوسروں کے لیے قید خانہ بنانے پر تلے ہیں؟

جب آپ کینڈا ، برطانیہ اور امریکہ کے عیسائیوں ، یہودیوں ،ہندؤں اور لامذہبوں کے ساتھ ہنسی خوشی گزارہ کر سکتے ہیں تو پاکستانی عیسا ئیوں، ہندؤں اور لامذہبوں کے ساتھ کیوں نہیں ؟ اگر آپ امریکی ،برطانوی اورفرانسیسی گیزاورلسبینز کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، نوکری اور بزنس کرسکتے ہیں تو پاکستا نی ہم جنس پرستوں کے پیچھے موت کے فتووں کا ڈنڈا لیے کیوں گھومتے ہیں ؟

ہر مسلمان فرقہ جو مغرب میں اسلام کی دی ہوئی شخصی آزادی اورانسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے وہ اپنے ہی فرقے کے لوگوں کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق کیوں نہیں دیتا ؟ کیا قرآ ن پاک میںاللہ تعالی کا حکم  لااکراہ فی دین صرف غیر مسلموں کواسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے ہے کہ ہمارے دین میں کوئی جبر نہیں! اورجیسے ہی کوئی بے چارہ آپکی تبلیغ سے اسلام  پرایمان لےآ یۓ توپھر کبھی اسکی داڑھی کی پیمائش تو کبھی ٹخنوں پرشلوارکی ، جینز میں نماز حرام کا فتوی اور برقعے کے کپڑے، لمبائی ،چوڑائی اور رنگ تک پر رنگ برنگے فتوے! اگر مسلمان تبلیغ کے وقت غیرمسلموں کو سچ سچ بتا دیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد آپکی ہرہرحرکت پراللہ کی نظرنہیں بلکہ ہماری نظرہوگی تو شاید اکثرغیر مسلم اللہ کا اسلام تو دل میں قبول کرلیں مگر ہمارے اسلام کو قبول کرنے کی بجاۓ کانوں کو ہاتھ لگالیں گے.

سوپاکستان کو چھوڑنے کے شوقین یا مذہبی شدت پسندی سے گھبراۓ یا پاکستان کےمذہبی شدت پسندانہ آئینی قوانین سے تنگ آ ئے ہوئےکچے پکے یا سچے مسلمان پاکستانیوں! ذرا غورکرو کہ ہماری منافقت ہمیں کس طرح در بدر کر رہی ہے !

آج ہمارا حال یہ ہے کہ دوسروں کی آزادیوں کے لیے اور پیمانے اپنوں کے لیے اور، دوسروں کےانسانی حقوق کے لیےلاپرواہی، سستی اوراپنے انسانی حقوق

بچا نے کے لیے مختلف براعظموں کا سفر، اپنی شخصی آزادی محفوظ رکھنے

کے لیے مشرک، کا فر،لا دین معاشرےاوردوسروں کی شخصی آزادی کے خلاف اسلامی تعزیریں؟

“آپ کچھ لوگوں کوکچھ وقت کے لیے تو بے وقوف بنا سکتے ہیں مگر آپ تمام

لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے” اور میرا یقین کریں کہ مذھب کے نام پرتوایسا بالکل نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک انسان خدائی مذاہب کی صورت کتنی بھی بگاڑدے مگر انمیںموجود خدا کی روشنی نہیں بجھا سکتا اور یہی روشنی دین سے متنفرشخص کے دل میں بھی کہیںنہ کہیں ٹمٹما رہی ہوتی ہے.

لیکن ہماری دین کے نام پرمنافقت ایک طرف تو اس ٹمٹماتی لوکو گل کررہی ہوتی ہے اوردوسری طرف دنیا کو ہمارے دین کا خوب خوب مذاق اڑانےکی د عوت دیتی ہے !

اب یہ ہم میں سے ہر ایک پر فرض ہے کہ وہ پاکستانی معاشرے کے لیے بھی وہی شخصی آزادی،انسانی فرایض اورحقوق کی بجاآ وری پسند کرتا ہے جواپنے لیے مغربی معاشروں میں چاہتا ہے یا پھرہم اسی قسم کی منافقانہ زندگی گزارنا چاہیں گے جیسی ہم آج کل گزار رہے ہیں !

یاد ہےنا قیا مت کے روز منافق کا ٹھکانہ کہاں ہوگا ؟ جہنم کے بیسمنٹ میں !!

  • I am a Student

    Excellent !!
    apne ne naam nehaad mazhab ke thekdaarun ke muu pe bilkul sahi ka Tamacha mara hy

    Keep it up.