تازہ ترین
October 19, 2017

سندھ میں سائیں قائم علی شاہ کا آٹھ سالہ دور اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ نئے وزیر اعلـٰی سید مراد علی شاہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جس میں سر فہرست کراچی میں آمن وآمان کو برقرار رکھنا ہے۔کراچی میں امن وامان کو رینجر کی موجودگی سے مشروط کردیا گیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوگیا ہے کہ رینجر کے بغیر شہرمیں امن وامان قائم نہیں رہ سکتا اس تاثر کے پیچھے بہت سی تاویلات ہیں اور انہی کی بنیاد پر کراچی میں رینجر کے اختیارات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پورے صوبہ سندھ کو ان کے خصوصی دائرہ کار میں دینے کا مطالبہ ہوتا ہے۔
نئے وزیر اعلیٰ رینجر کے اختیارات میں توسیع کریں گے لیکن کیا یہ مسئلے کا حل ہے؟ کیا فوج اور پیرا ملٹری فورسز کو پولیس کے طور پر کرنا دانشمندی ہے؟ اور اس قسم کے کردار سے عسکری اداروں کی اپنی ساخت ،بنیادی اہداف اور سب سے اہم کار گردگی پر کسی قسم کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔پولیس کا کام روزمرہ سلامتی امور ،جرائم اور بدامنی پر قابو پانا ہیں اور اس کام کے لیے ان کا عوام سے براہ راست رابطہ ضروری ہے بلکہ بہتر پولیسنگ کے لیے عوام کے ساتھ موثر رابطہ اور اعتماد کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔انہی اصولوں پر پولیس کی تربیت کی جاتی ہے کیا رینجر کی تربیت بھی اسی بنیادی اصول پر کی جاتی ہے؟
جواب یقیناً نفی میں ہے۔تو حل کیا ہے؟ بہتر پیشہ ورانہ سیاسی اور عسکری اداروں کے اثر و رسوخ سے آزاد پولیس، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس سلسلے میں اعلان کیا تھا کہ کراچی پولیس کی بھرتیاں اور ان کی تربیت فوج کے ذریعے کی جائے گی۔یہ بیان وفاقی اور صوبائی وزارت داخلہ اس بھرتی کے طریقہ کار اور اس کی تربیتی اداروں کی اہلیت پر ایک سوال ہے۔بہر حال سندھ اور پاکستان میں پولیس اور دیگر سیکورٹی کے اداروں میں بہتری اور اصلاح کی ضرورت ہے اور اسے ملتوی یا کسی اور ادارے کے سپرد کرنا ان سیکورٹی اداروں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔لیکن فی الحال بنیادی ترجیح سندھ اور خصوصاً کراچی میں پولیس کی نظام کے نظام میں بہتری اور اس پر عوام کی اعتماد کی بحالی ہے۔ہنگامی طور پر دیگر عسکری اداروں سے مدد لی جا سکتی ہے اور ترچیح یہی ہونی چاہیے کہ رینجر کی خدمات اہم تھیں لیکن اب اس سے مستقل بنیادوں پر پولیسنگ کی ذمہ داری دینا دانشمندی نہیں ہوگی۔امید ہے نئے وزیر اعلٰی اس سمت میں سوچ رہے ہونگے۔ (بشکریہ: تجزیات