تازہ ترین
October 19, 2017

بی بی سی نے اس سال دنیا کی اہم ترین خواتین کی فہرست جاری کی ہے جس میں پہلی مرتبہ ایک بلوچ خاتون یعنی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او آزاد) کی چئیر پرسن کریمہ بلوچ کا نام شامل کیا گیا ہے۔ یہ بلوچستان کے لئے عموماً اور بلوچ خواتین کے لئے خصوصاً فخر کی بات ہے۔ آپ کریمہ بلوچ کی سیاست سے اتفاق کریں یا نا اس بات سے قطع نظریہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ بی بی سی نے ایک ایسے خطے( بلوچستان) کی سیاسی کارکن کی جد وجہد کو اجاگر کیا ہے جہاں سے خبریں بمشکل باقی پاکستان اور دنیا  تک پہنچتیہیں۔

کریمہ بلوچ کی جد وجہد اس لئے بھی بلوچستان کی بچیوں کے لئے قابل تقلیدہےکہ انھوں نے ایک ایسے شعبے میں جانے کا فیصلہ کیا ہےجہاں بلوچ معاشرے میں بہت کم خواتین نے قدم رکھا ہے۔ بلوچ معاشرے  میں کام کرنے والی  زیادہ تر خواتین تعلیم اور صحت کے شعبے سے وابستہ ہوتی ہیں اورکم عورتیں ایسی ہیں جو کہ سیاست میں جاتی ہیں اور پھر اس شعبے کو اتنی سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ علاوہ ازیں مزحمتی سیاست  اور بلوچستان کی آزادی کی تحریک میں کھلے عام حصہ لینے کے ساتھ اور کئ مسائل اورمشکلات سامنے آجاتے ہیں لیکن ان تمام مصائب کے باوجود کریمہ بلوچ نے اس راستے کا انتخاب کیا جس کی طرف ان کے دل اور دما غ نے انھیں راغب کیا۔ یہ بات ان تمام بچیوں کے لئے اہم ہے جو اپنی زندگی کے حوالے سے فیصلے کرنا چاہتی ہیں اور ان شعبہ جات میں قدم رکھنا چاہتی ہیں جہاں روایتی طور پر مردوں کا غلبہ رہاہے۔

دنیا میں جن جن لوگوں کو بڑے اعزازات سےنوازا گیا ہے ان سب نےایوارڈ لیتے وقت ایک ہی بات دہرائی ہے کہ ایوارڈ یا اعزازات ان کے کام سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے اور ان کے نزدیک جس مشن کے لئے انھوں نے اپنی زندگی وقف کررکھی ہےوہ مشن ان کے لئے زیادہ اہمیت کے حامل ہے۔ کریمہ بلوچ بھی یقیناً اس اعزاز کے حوالے سے یہی محسوس کررہی ہوں گی کہ بی بی سی کی فہرست سے زیادہ ان کے لئے بلوچستان کی تحریک زیادہ اہمیت کے حامل ہے۔ تاہم ہمارے خیال میں اس اعزاز کی اس لئے بھی اہمیت ہے کہ بلوچستان کی خواتین کارکناں کی جدو جہد کو پورے پاکستان اور عالمی سطح پر اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنا ان کا حق بنتا ہے۔

اگر پچھلےایک دہائی کا جائزہ لیا جائے تو بلوچستان میں کئ خواتین نے سیاست اور انسانی حقوق کے شعبوں میں ایسی خدمات سرانجام دی ہیں کہ  وہاں کے مرد بھی اپنی خواتین کی جرت، ہمت اور بہادری دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔ پچھلے ایک دہائی سے جاری بلوچستان کے بحران نے بلوچستان کی کئی خواتین کو عملی میدان میں دھکیل دیا ہےاور ان خواتین نے انسانی حقوق کے لئے آوا ز بلند کرنے کی خاطر نمایاں خدمات پیش کیں۔ بلوچ خواتین نےمظاہروں کا انعقادکیا ہے، پریس کانفرنسز سے خطاب کی ہے، عدالتوں اورسفارت خانوں کے سامنے انصاف کا مطالبہ کیا ہے، سیمینار اور کانفرنسز کے شرکا تک معلومات پہنچائی ہے، بھوک ہڑتالی کیمپوں میں شرکت کی اور ہزاروں میل تک لانگ مارچ بھی کئے لیکن  ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں نے آج تک کسی بلوچ خاتون کارکن کی جدو جہد کا  فراخدلی سے اعتراف نہیں کیا ہے جو کہ انتہائی مایوس کن ہے۔ مایوسی کے اس عالم میں بی بی سی کی جانب سے کریمہ بلوچ کی خدمات کا اعتراف ایک حوصلہ افزا عمل ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ یہی رکےگا نہیں بلکہ باقی ادارے بھی بی بی سی کی تقلید کرتے ہوئے بلوچستان کی خواتین کی خدمات کا اعتراف کریں گے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، ایمنسٹی انٹر نیشنل، ہیومن رائٹس واچ جیسے معتبر اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچستان کے سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنان کی خدمات کا اعتراف کریں اور انھیں ملکی و غیر ملکی اعزازت کے لئے نامز کریں۔ اسی طرح مقامی میڈیا کو چائیے کہ وہ ان اداروں سے بھی پوچھیں کہ ایسا کیوں ہے کہ بلوچستان میں کئی خواتین نے سیاست اور انسانی حقوق کے شعبہ جات میں اہم خدمات سرانجام دئیے ہیں لیکن اس کے باجود آج تک بلوچستان کی کسی کارکن کی عالمی سطح پر حوصلہ افزائی نہیں ہوئی ہے۔ ہم بارہا یہ سن چکے ہیں کہ ایوارڈز اور اعزازات کی اہمیت نہیں ہے لیکن یہ درست نہیں ہے۔جن جن کارکناں کو ملکی یا عالمی سطح پر ایوارڈز ملتےہیں انھیں میڈیا  اور سول سوسائٹی سے روابط کے نئے مواقع مل جاتے ہیں جن  پر وہ اپنی تحریک اور مشن کے بارے میں ان افراد تک آگاہی پہنچاسکتے ہیں  جنہیں اس سے قبل اس حوالے سے آگاہی  نہیں تھی۔