تازہ ترین
October 19, 2017

فوج کے نئے سربراہ جنرل قمرباجوہ کی تقرری کے ساتھ ہی ان تمام قیاس آرائیوں کا سلسلہ اب ختم ہورہا ہے جو کئی مہینوں سے ذرائع  ابلاغ میں گردش کررہے تھے۔ماہرین نے آنے والے آرمی چیف کی شخصیت اورپالیسیوں کے بارے میں جی بھر کہ اندازے لگائے۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش کہ آیا فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع کئے گئے آپریشن ضرب  عضب جاری رکھیں گے یا نہیں تو باقیوں نے سر کھپایا کہ  پتہ نہیں  بھارت اور افغانستان کی جانب ان کی پالیسی کیسی ہوگی۔

تاہم بہت کم تجزیہ نگاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ  نئے آرمی چیف کی بلوچستان کے حوالے سےکیا پالیسی ہوگی یا ہونی چائیے۔  خود عسکری پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان ان کے لئےبے حد اہمیت رکھتا ہے لہذہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے حوالے جنرل باجوہ کی پالیسی کا تجزیہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اگر وہ چائیں تو بلوچستان کے حالات بہتر بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بلوچستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں صوبے کی وکالت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ جب تک سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے پر فائز تھے تووہ وقتاًفوقتاًبلوچستان کے مسئلے پر افسران اعلیٰ کی سرزنش کرتے تھے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کور کمانڈرز کی میٹنگ ہوتی ہے تو اس میں بلوچستان کا مقدمہ کون لڑتا ہے؟ کیا اتنے اہم اجلاس میں بلوچستان کی آواز بلند کرنے والا بھی کوئی ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کور کمانڈرز کے اجلاس میں کوئی بلوچستان میں فوج کشی اورانسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف کلمہ حق بلند کرے؟

ان تمام سوالات کے پیش نظر کہ جنرل باجوہ بلوچستان کے لئے کیا کرسکتے ہیں گذشتہ دنوں  ہم نے  یہی مضمون انگریزی اخبار “ڈان” (جس میں راقم الحروف کے کئی مضامین ماضی میں شائع ہوچکے ہیں) میں شائع کروانے کی کوشش کی  لیکن “ڈان” نے  ہمارے مضمون کی اشاعت سے معذرت کی۔ بیرونِ بلوچستان صحافی اورمدیران بلوچستان کے قلم کاروں سے اپنی بے بسی کا اظہار بس یوں کرتے ہیں “جانی سمجھا کرو۔ بلوچستان کا معاملہ بڑا نازک ہے” اور بس پھر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوگئے ہیں۔ میرے خیال میں  نام نہاد قومی میڈیا میں بلوچستان کے حوالے سے خبروں، مضامین اور تجزیوں کو سنسر کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ رویہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کرنے کا موجب بن رہا ہے ۔ جب تک بلوچستان کے حوالے سے خبریں اور تجزیہ شائع نہیں ہوتے تب تک ہم ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے آگا ہ نہیں ہوسکیں گے۔ بلوچستان کے معاملہ میں یہ جانا بھی لازمی ہے کہ صوبے میں محض ایک نقطہ نظر نہیں ہے بلکہ کئ رائے پائے جاتے ہیں اور فوج، سیاست دان اور میڈیا کو چائیے کہ وہ  کشادہ دلی کا مظاہر ہ کرکے ان تمام مکاتب فکر کی رائے کو غور سے سنیں۔ان تمام نا مساعد حالات اور نا سازگار زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہیں کہ جنرل باجوہ ہمارے تمام مشوروں کو گوش گزار کرینگے لیکن  ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچستان میں قیام ِ امن کے لئے اہم اقدامات اٹھائیں گے۔ اس سلسلے میں درج ذیل امور توجہ طلب ہیں۔

اس وقت جنرل صاحب کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ صوبائی حکومت اور سیکورٹی اسٹبلشمنٹ میں موجود ان افراد کی باتوں کا یقین کریں جو انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ  بلوچستان میں حالات بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں اور پریشانی کی کوئی بات نہیں اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ اس بات کا اعتراف کیا جائے کہ بلوچستان کے حالات خراب ہی نہیں بلکہ تشویش ناک حدتک بگڑ چکے ہیں ۔اس سلسلے میں جلد از جلد کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں جنرل صاحب  کے لئے دوسرا راستہ بہتر رہے گا تا کہ وہ حقیقت پسندی سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے حالات کا جائز ہ لیں اور مستقبل کے لئے ایک بہتر لائحہ عمل طے کریں۔

سب سےپہلے تو اس بات کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ بلوچوں کی نظر میں جنرل مشرف کی دور میں شروع کی گئی پالیسوں کی وجہ سے افواج ِ پاکستان کی توقیرمیں زبردست کمی آئی ہے۔ مشرف نے بلوچستان میں آگ اور خون کا جو کھیل شروع کیا اسے  ختم کرنے کے لئےجنرل کیانی اور راحیل شریف نے  کوئی کوشش نہیں کی۔ انھوں نے اسی پالیسی کو برقرار رکھا یا خاموشی سے اس کی تائید کی اور اس غلط پالیسی کو ترک کرنے کی کوشش تک نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔ صوبے میں آج بھی لو گ لاپتہ ہورہے ہیں، مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، سیاسی  کارکناں اغوا کئے جارہے ہیں۔ پہلے تو بلوچ دشمن سرگرمیاں صرف بلوچستان تک محدودو تھیں لیکن اب تو کراچی میں مقیم بلوچ بھی اس سخت گیر پالیسی کا شکار بن رہے ہیں۔  اس سلسلے میں بلوچ پبلشر واحد بلوچ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ جنرل باجوہ کو چائیے کہ وہ بلوچستان  میں جبری گمشدگیوں کا فی الفور خاتمہ کریں۔ جو سیکورٹی اور خفیہ ادارے ان غیر انسانی و غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کے سربراہان کو احکامات جاری کئے جائیں کہ تمام کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ ان  جبری گمشدگیوں سے بلوچستان میں فوج اور ریاست کے خلاف نفرتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص لاپتہ افراد کے معاملے کو حل کرسکتے ہیں تو وہ جنرل باجوہ کی ذات ہیں اور انھیں اس سلسلے میں اپنے اہم رول کا ادراک کرتے ہوئے فیصلہ کن اقدامات کرنے چائیں تا کہ کم از کم بلوچستان کے لوگوں کو جبری گمشدگیوں سے چھٹکارا ملے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت اور بلوچ قوم پرست رہنماوں کے درمیان کوئی روابط نہیں ہیں اور مذاکرات کے تمام امکانات بھی دم تھوڑ چکے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ بلوچستان میں اس وقت تک مذاکرات کا عمل کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اسے فوج کی حمایت حاصل نہ ہو۔ اور مذاکرات کے لئے اس وقت تک راہ ہموار نہیں ہوسکتا جب تک فوج اور خفیہ ادارے آپریشن اور مارروائے عدالت کارروائیاں روک نہ دیں۔ پچھلے ایک دہائی کے تجربے کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان میں فوجی طاقت کے استعمال سے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں اوراب اس ناکام پالیسی کو ترک کرکے گفت و شنید کو ایک سنجیدہ موقع دینا چائیے۔ اس کے لئے لازمی ہے کہ فوج کی طرف سے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان ہو تا کہ بال بلوچ قوم پرستوں کے کورٹ میں چلاجائے اور ان کے لئے جنگ بندی اور مذاکراتی میز پر نا آنے کا کوئی جواز باقی نہ رہے۔ دنیا میں بڑے سے بڑے تنازعات کا اختتام مذاکراتی میز پر ہوا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ بلوچستان کے مسئلے کا افہام و تفہیم سے حل نہ ڈھونڈا جاسکے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ ہم اس بات کا بھی اعتراف کریں کہ بلوچستان کے لئے شاید ایک دیرپا مذاکراتی عمل کی ضرورت پڑے کیونکہ پچھلے دس سالوں سے دونوں طرف سے نفرتوں اور بد اعتمادی میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ بلوچ اور اسلام آباد ایک ہی نشست میں اپنے تمام مسائل کا حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہوں۔مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لئے لازمی ہے کہ فریقین اس وقت تک مذاکرات میں مصروف ِ عمل رئیں جب تک وہ تمام مسائل کا پر امن حل تلاش نہیں کرتے۔

جنرل باجوہ فوج کی سربراہی ایک ایسے وقت میں سنھبال رہے ہیں جب ملک میں داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگرچہ سرکار پاکستان یا بلوچستان میں داعش کی موجودگی کے بارے میں بدستور انکاری ہیں لیکن بلوچستان میں پچھلے چند مہینوں میں ہونے والے وہ تین دھماکے جن کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہےاس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ بلوچستان میں مذہبی دہشت گردی میں اضافہ ہورہا ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں بلوچستان کے وکلا، پولیس اورعام شہری بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ حکومت داعش کی موجودگی کا اعتراف کرتی ہے یا انکار، ان انسان کش عناصر کی بلوچستان میں موجودگی ایک حقیقت ہے ۔ وہ جس نام سے بھی کارروائی کریں اورجہاں سے بھی آئیں یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان عناصر کے خلاف ایکشن لے ہم دیکھتے ہیں کہ فوج، ایف سی ، پولیس اور خفیہ اداروں کی جو بنیادی ذمہ داری ہے وہ اس سے بڑی حد تک غافل ہیں اور عوام کو یہ کہہ کر بے وقوف بنایا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات کے پیچھے بھارت یا افغانستان ہیں۔ اگر داعش کے خطرے کو اس وقت سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو بلوچستان میں یہ معاملہ مزید گھمبیر ہوگا اور اس کے اثرات سے ایران اور افغانستان  بچ نہیں سکتے۔ بلوچستان میں ریاست نے مذہبی قوتو ں کو محض اس لئے استعمال کیا کہ وہ بلوچ قوم پرستوں کے خلاف کار آمد ہوں لیکن اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ یہ عناصر خود ریاست کے لئے دردِ سربنے ہوئے ہیں ۔ اس کا نقصان بلوچ قوم پرستوں کو کم اور ریاست اور عوام کو زیادہ ہوا ہے۔

دریں اثنا جنرل باجوہ کو چائیے کہ وہ بلوچستان میں ان تمام ڈیتھ اسکواڈ کا بھی قلع قمع کریں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں ریاستی اداروں نے بلوچ قوم پرستوں، مقامی صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکناں کے خلاف لاکھڑا کیا تھا۔ انہی اسکواڈ کی وجہ سے خضدار میں اجتماعی لاشیں تک ملیں۔ریاست کو چائیے کہ قانون نافذکرنے کی ذمہ داری پرائیوٹ ملیشا کے بجائے پولیس کے سپرد کرے کیونکہ بلوچستان  میں دیکھنے میں آیا ہے کہ ان گروہوں نے حکومتی سرپرستی، حمایت اور اعتماد کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے قبائلی، سیاسی اور ذاتی مخالفین کے خلاف کارروائی کی ہے ۔

ایک اور اہم مسئلہ جو کہ توجہ طلب ہے وہ ہے سول حکومت میں فوج اور ایف سی کی مداخلت ۔ باقی ملک میں حکومت کے معاملات میں فوج کی مداخلت ہو یا نہ لیکن بلوچستان میں تو اس کے اثرات روزمرہ کی زندگی میں ملتے ہیں۔ کسی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح ہو یا صوبائی وزرا کی پریس کانفرنسز، سب میں فوجی افسران نظرآتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ بلوچستان میں مارشل لالگا ہوا ہے۔ فوج اور ایف سی کا یہ کہنا ہے کہ وہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں لیکن یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ کسی علاقے میں ترقیاتی کام کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے نا کہ فوج  یا ایف سی کی۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت نا اہل ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد کرپٹ بھی ہے اور جب فوج اور ایف سی ان کی جگہ کام کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو اس سے ایک طرح سے صوبائی حکومت کو اپنی نا اہلی اور کرپشن چھپانے کا زبردست موقع مل جاتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ فوج اور ایف سی کتنے اسکول قائم کرتی یا یا فری میڈیکل کیمپس لگاتی ہیں یہ  منصوبے بذات خود صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں کا نیم البدل نہیں ہوسکتے۔ تعلیم اور صحت کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ان خدمات کی فراہمی میں ناکامی کی ذمہ دار صرف اور صرف صوبائی حکومت ہے نا کہ فوج اور ایف سی۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں دہشت گردی کے واقعات میں بدستور اضافہ ہورہا ہے وہاں فوج اور ایف سی عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے کیونکر تعلیم اور صحت کے منصوبوں میں مصروف ہیں؟

اس سال کے شروع میں جنرل راحیل شریف نے چھ اعلیٰ فوجی اہلکاروں کوبدعنوانی ثابت ہونے پر برطرف  کیا تھا اور ان میں دو جنرل بلوچستان میں ایف سی کے سربراہ بھی رہ چکے تھے۔جنرل راحیل شریف اس حوالے سے قابل تحسین ہیں کہ انھوں نے فوج میں بھی کرپشن کا نا صرف اعتراف کیا بلکہ کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کی لیکن ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چائیے کہ  چھ اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کے ساتھ ہی فوج اور ایف سی میں ہر قسم کی بدعنوانی کا سد باب ہو گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سارے افسران فوج اور ایف سی میں رشوتیں دیتے ہیں کہ بلوچستان میں ان کی پوسٹنگ ہو کیونکہ انھیں پتہ ہےکہ وہ تھوڑے ہی عرصہ میں بلوچستان میں کرپشن کے ذریعے کروڑوں روپے کمالیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنرل باجوہ بلوچستان میں فوج اور ایف سی میں موجود کرپشن کا نوٹس لیں اور جنرل راحیل شریف نے جس عمل کا آغاز کیا تھا اسے منطقی انجام تک پہنچائیں اور بلوچستان کا خون چوسنے والے بد دیانت افسران کو کڑی سزا دی جائے۔

چونکہ جنرل باجوہ کا تعلق خود بلوچ رجمنٹ سے ہے اور انھوں نے کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں درس و تدریس کا فریضہ بھی سرانجام دیا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ بلوچ رجمنٹ یا پوری فوج میں بلوچوں کی نمائندگی نہ ہونے کیے برابر ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ پاکستان فوج کے مقابلے میں زیادہ تر بلوچ خلیجی ممالک کی افواج میں شامل ہیں اور وہاں اعلیٰ عسکری عہدوں پر بھی فائز ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان افواج میں بلوچوں کو بھرتی کرنے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے اور وہاں بلوچوں کو احترام دیا جاتا ہے اور ان پر بھروسہ بھی کیا جاتا ہے۔ پاکستان فوج میں بلوچ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جن جن نوجوانوں نے وہاں جانے کی کوشش کی تو بہت جلدی یہ کہہ کر فوج سے بھاگنے پر مجبورکیا گیا کہ وہاں انھیں غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔جنرل باجوہ کو چائیے کہ وہ فوج میں بلوچوں کی بھرتی اور ترقی کے دروازے کھولیں تاکہ فوج میں بلوچ نوجوانوں کی بھی نمائندگی ہو۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اوراس کا حل محض اخباری بیانات تک محدود نہ ہو۔

مندرج بالاگذارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنرل باجوہ بلوچستان سے غافل نہیں رہ سکتے بلکہ بلوچستان کے حوالے سے ان کی ایک جامع پالیسی ہونی چائیےاور اگر وہ چائیں تو بلوچستان میں قیام امن کے لئے ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔یہ ان کے لئے ایک سنہر ا موقع ہے کہ جنرل مشرف، کیانی اور راحیل شریف کی پالیسوں پر نظر ثانی کرکے بلوچستان کے لئے ایسی پالیسی مرتب کریں جس سے صوبے میں سیاسی افہام و تفہام کے لئے راستہ ہموار ہواورجبرو تشدد کی پالیسی کی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو۔