تازہ ترین
October 19, 2017

screen-shot-2016-12-05-at-1-07-52-pmتحریر ذوالفقار علی

میرے ہم وطنو کُڑھتے کیوں ہو ۔ بچوں کی طرح کیا روز روز کا رونا روتے ہو ۔ خواہ مخواہ اپنی جان کھپاتے ہو حالانکہ ہم بطور “محب وطن فورس”  اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دن رات مُلک کو عظیم سے عظیم تر بنانے میں لگی ہوئے ہیں!

جیسا کہ تمہیں پتا ہے کہ اس مُلک کی حفاظت اور دیکھ بھال کا سارا کام نیشنل ایکشن پلان کے نام پے ہم سورماوں نے اپنے سر لے لیا ہے اور دن رات دُشمنوں کی کمریں توڑنے میں ہمارے جانباز سپاہیوں نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی! اگرچہ را ، موساد اور این-ڈی-ایس نامی مکھیاں بھنبھناتی رہتی ہیں مگر ان مکھیوں کا بندوبست بھی ہم نے کر لیا ہے۔ ان کے تدارک کیلئے ہم نے وزیر اعلی بلوچستان اور وزیر داخلہ پاکستان کو متعین کیا ہوا ہے وہ مزید لمبی لمبی چھوڑ کر ان کا ناطقہ بند کر دیں گے۔

کچھ دن پہلے شمالی وزیرستان میں ایک واقعہ ہوا تھا جسمیں ہمارے جوانوں نے پورے کا پورا پلازہ ہی زمین بوس کر دیا تھا مگر دشمنوں کے پیسوں سے پلے ایشین ہیومن رائٹ کمیشن والے ہمارے سفید دامن پے کیچڑ اچھال رہے ہیں ان کی ہرزہ سرائی مُلاحظہ کیجئےکہتے ہیں “جری روحوں” والوں نے شمالی وزیرستان نامی جنت میں ایک نا فرمان کو طالبان نامی “بے ضرر” مخلوق کو اسلحہ سپلائی نہ کرنے کے جُرم میں اُس کےپورے بزنس سینٹر کو اُڑا دیا ہے۔یہ خواہ مخواہ ہمارے ذاتی قسم کے معاملات میں ٹانگ اڑا رہے ہیں۔ ان بد بختوں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ تُم کون ہوتے ہو اسلام کے قلعے میں اپنی بانسری بجانے والے۔نا ہنجارو باز آ جاوشاید آپکو نہیں پتا کہ بینڈ بجانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں جب ہم بجاتے ہیں تو پھر بانسری کی آواز کوئی نہیں سنتا۔

کچھ دن پہلے ہم نے چائینا پاکستان اکنامک کوریڈور کا باقاعدہ آغاز کر کے اپنے نام کی تختی کُنداں کر دی ہے تاکہ سند رہے اور منتخب وزیر اعظم سمیت کوئی کسی شک میں مبتلا نہ رہے۔

کیونکہ پیارے یہ روڈ ہے روڈ کوئی ایسی ویسی چیز نہیں جس کو نظر انداز کیا جا سکے یا اسکو کسی ایرے غیرے کے ووٹوں سے منتخب لوگوں کے سپرد کیا جاوے۔ اس سیاہ رنگ کی سڑک کی برکات بھلا تم کیا جانو اس سے کالا دھن سفید ہو جائیگا۔ تقدیر کی سیاہ لکیریں مٹ جائیں گی اور ہر طرف دودھ کی نہریں بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے دل کو چیر کر ہر عام و خاص کی دہلیز پر چھولیاں مارتی ہوئی گُزریں گی اور آپ انگشت بدنداں دیکھتے رہ جائیں گے۔

ارے نا شُکرو بڑے مقصد کو پانے کیلئے چھوٹی چھوٹی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ ہفتے میں ایک آدھ دھماکے میں بیسیوں لوگ مر جاتے ہیں تو سوشل میڈیا والے سر آسمان پے اُٹھا لیتے ہیں حالانکہ ان عقل کے لٹھوں کو اتنا بھی نہیں پتا کہ طویل المدتی فائدہ اور تذویراتی گہرائی کے تناظر میں یہ قُربانیاں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے مرنے والے زندگی کی قید سے آزاد ہو کر پُھر کر کے جنت میں چلے گئے اور ادھر نا سمجھوں نے خواہ مخواہ “کاں کاں” مچا رکھی ہوتی ہے۔

شاہ نورانی لاہوتی والا واقعہ ہی دیکھ لیں پچاس ، ساٹھ لوگ کیا مرے ان “مینڈکوں” نے سوشل میڈیا پے اپنی ٹراں ٹراں سے آسمان سر پے اٹھا رکھا ۔ غالب کے مصرعے کی طرح اتنا بھاری آسماں یہ نحیف و ناتواں کب تک اُٹھا رکھیں گےحالانکہ شاعر مشرق نے کئی دہائیوں پہلے اس حادثے کا ادراک کر لیا تھا جس کو اکثر جگ مشہور خادم اعلی قوم کو خواب غفلت سے جگانے کیلئے پڑھتے رہتے ہیں  “آئے طائر “لا ہوتی” اس رزق سے موت اچھی” مگر تمہارا وژن اُن جیسا کہاں جو تم اس نُقطے کو جسم و جاں میں حلول کر سکو۔

ارے غدارو اور اس وطن کے کُھلے دشمنو! اب جان لو ہمالیہ سے لمبا اور بحرالکاہل سے زیادہ “گہرا” دوست ہر قیمت پے اس خطے کی تقدیر کو اُلٹ کے رکھ دے گا اور تُمہاری آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جائیں گی۔ پھر سمجھ آئیگی “گیم چینجر” تھیوری کی مگر اُس وقت سوائے پچھتانے کے آپ کے پاس کُچھ نہیں ہو گا اور تم صرف ہاتھ ملتے رہ جاو گے۔ بے شک عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں مگر تم نہیں سمجھو گے۔

ان نشانیوں میں سے ایک تازہ نشانی ہم نے گورنر سندھ کے طور پر عیاں کی ہے تاکہ تُم عبرت پکڑ سکو کہ ایک نحیف و ناتواں جسم پورے صوبے کا انتظامی بھار اپنے کندھوں پے اُٹھا کے داخل ہسپتال ہے مگر اُس مرد نے اُف تک نہیں کی۔ ایک تُم ہو ھٹے کٹے ہڈ ہرام ملک کیلئے عملی طور پر کُچھ کرنے کی بجائے دن رات ہماری رائج الوقت پالیسیوں سے کیڑے نکالتے رہتے ہو۔ ابھی بھی وقت ہے سُدھر جاو ورنہ “نا معلوم افراد” کے ذریعے واحد بلوچ کی طرح اُٹھوا لیے جاو گے اور پھر تُمہاری بیٹیاں ہمارے فعال اداروں کے دروازے کھٹکاتی اور بین کرتی پھریں گی کہ پلیز ہمارے “گم شُدہ” کو اپنی ہی عدالتوں سے سزا دلوا دو۔ پھر آپ کی آواز پے کان دھرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔۔!!!