تازہ ترین
August 22, 2017

فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اپنے تمام مخالفین کو درگزر کرنے کااعلان کیا تو ان کے سامنے وحشی نامی ایک غلام بھی آگیا جنھوں نے غزوہ احد میں ابوسفیان کی بیوی ہندہ کے بہکاوے میں آکرنہ صرف آپؐ کے عزیز چچا حضرت حمزہ کوشہید کیا تھا بلکہ ان کا کلیجہ بھی چھبایا تھا۔ رسول پاکؐ کو حضرت حمزہ سے بے انتہا محبت تھی اوران کی جدائی سے انھیں شدید صدمہ پُہنچا۔ لیکن جب حضرت حمزہ کے قاتلوں نے بھی آپ سے ڈر ڈر کے پوچھا کہ کیا یہ معافی ہمارے لئے بھی ہے تو آپؐ نے فرمایا، ہاں۔ میں نے تمہیں بھی معاف کردیا ہے بس تم میرے سامنے نہ آیا کرو۔ تمہیں دیکھ کر مجھے میرے پیارے چچا یاد آتے ہیں۔

گذشتہ روز جب جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید صاحب بلوچستان تشریف لائے تو ہمیں بھی اللہ کے رسول کے وہ الفاظ بار بار یاد آئے۔ حافظ صاحب آپ واقعی بہت بڑے عالم دین ہیں۔ آپ نڈرمجاہدہیں۔ آپ کا نام سن کر بھارت اور امریکہ کے حکمران کانپنے لگتے ہیں۔ آپ کی دانائی اور محب الوطنی پر کوئی شک نہیں۔ آپ کے ایمبولینسزاور فلاحی کاموں کو دیکھ کر آپ کوایدھی ثانی نا کہنا ستم ظریفی ہوگی۔ یقیناً آپ کا دل بلوچستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آپ نےہماری بنجززمینوں کی کھدائی کرکے یہاں پانی کے ان گنت کنویں کودے۔ آپ نے پیاسوں کو پانی پلایا اور بھوکوں کو مفت کھانا کھلایا۔ آپ نے سخت سردی میں کانپتے زلزلہ زدگان میں کمبلیں تقسیم کیں،سیلاب زدگان کے لئے خیمے قائم کئے، معذوروں اور بیماروں کے لئے مفت طبی کیمپ قائم کئے۔

لیکن حافظ صاحب آپ بلوچستان نہ آیا کریں۔

آپ کو دیکھ کر ہمیں بلوچستان کے وہ ہزاروں شہدا یاد آتے ہیں جن کی جانیں مذہبی دہشت گردی کی وجہ سے چلی گئی ہیں۔ آپ بہت اچھے ہیں لیکن آپ کا جہادی فلسفہ نفرت سے بھرا ہے۔ آپ نرم گو  ضرورلیکن بلوچستان میں اس سال مذہب کے نام پہ اتنا لہو بہا کہ ہمارے پاس ایمبولینسزتک ختم ہوگئے۔ حافظ صاحب آپ کو دیکھ کر ہمیں بلوچستان کے شہدا یاد آتے ہیں۔ وکلا کی لہولہاں لاشیں یاد آتی ہیں جنھیں کوئٹہ کے خود کش حملے میں شہید کیا گیا۔پولیس اکیڈمی کے نوجوان سپائیوں کی بکھری ہوئی لاشیں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ ہمیں تو وہ نوجوان خود کش حملہ آوار بھی یاد ہیں جن کے بارے میں بلوچستان میں ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہ ان چھوٹے چھوٹے اطفال کو کون خود کش حملہ آور بناتا ہے؟ کون ہے جو ان کے دلوں میں نفرت، تشدد اوردرندگی کےبیچ بوتا ہے؟  کون ہیں وہ ظالم جو ان خوبصورت جوانوں کو جنت اور حوروں کا لالچ دے کر خود کش حملہ آور، درندہ صفت دہشت گردبناتے ہیں؟ حافظ صاحب آپ بہت اچھے ہیں لیکن آپ کو دیکھ کر ہمیں وہ چھوٹے چھوٹے بچے یاد آتے ہیں جو جہاد، فساد اوردہشت گردی کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔

حافظ صاحب،اگر آپ کو یقین نہیں آتا کہ آپ کے جہادی درس و تدریس نے کیا کمال دیکھایا ہے تو آپ بگٹی ہاوس کے بجائے مری آباد اور علمدار روڑ میں موجود ہزارہ قبیلے کے ان ہزاروں اجڑے ہوئے گھروں پہ تشریف لے جاتے۔آپ کے جہادی فلسفے، مذہبی جنونیت اوردرندگی نے صرف کوئٹہ شہر میں اتنے گھر اجاڑدئیے ہیں کہ آپ گن گن کر تھک جائیں گے۔آپ جیسے اساتذہ نے لشکر جھنگوئی، لشکرِ   طیبہ ، جیش محمد، طالبان وغیرہ کو جنم دیا۔
مذہبی دہشت گردی نے بلوچستان سے وکلا کی ایک نسل چھین لی تو ایک اور نسل کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یتیم و معذور بنادیا۔جس ’’جہاد‘‘ یعنی دہشت گردی کی پرچار آپ کرتے ہیں چائے وہ ممبئی میں ہو یا  کابل میں یا کوئٹہ میں، قابل مذمت ہے۔ آپ سب ایک جیسے ہیں۔  اور بلوچستان کے لوگ آپ کے ہم سفر اور ہم خیال نہیں بن سکتے ۔

حافظ صاحب ، آپ بہت اچھے ہیں لیکن جس فلسفے کی آپ پرچار کرتے ہیں اس کا بلوچستان متحمل نہیں ہوسکتا۔ بلوچستان پہلے ہی سے لہولہان ہے۔ بلوچستان باشعور نوجوانوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ بلوچستان لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کی فیکٹری بن چکا ہے۔ خداراخون سے لت پت اس سرزمین پر  جہادی فیکٹری نا لگائیں۔ آپ بلوچوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ کون کہتا ہے کہ بلوچ بہادر ہیں اور مجاہدینِ اسلام بن کر آپ کے شانہ بشانہ جنگ لڑیں گے؟ کس نے بتایا یہ سب کچھ آپ کو؟ شاہ زین بگٹی نے؟ چھوڑیں شاہ زین بگٹی کو، حافظ صاحب۔ شاہ زین بگٹی تو خود ڈر کے مارے ڈیرہ بگٹی نہیں جاسکتے۔ کشمیرجاکر  آپ کے ساتھ کیا جہاد کریں گے؟

حافظ صاحب، آپ بہت اچھے ہیں بس آپ بلوچستان نہ آیا کریں۔ آپ کودیکھ کر  ہمیں بلوچستان کے وہ ہزاروں شہدا یاد آتے ہیں جو جہادی، فسادی، فرقہ وارانہ اور مذہبی دہشت گردی کے شکار ہوئے۔