تازہ ترین
October 19, 2017

تحریر : ببرک کارمل جمالی

سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو ملکی سیاسی تاریخ کی بے مثال لیڈر تھیں ۔ وہ۲۱جون ۱۹۵۳ کو ذوالفقارعلی بھٹو کے ہاں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کراچی، راولپنڈی اور مری میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم پہلے ہارورڈ اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے ۱۹۷۷ میں مارشل لا نافذ کیا اور بھٹو گرفتار ہو گئے۔ ذولفقار علی بھٹو کو قتل کے الزام میں پھانسی سنائی گئ۔ ۱۹۸۵ میں بینظیر بھٹو کے بھائی شاہنواز بھٹو فرانس میں پراسرار موت کا شکار ہوئے۔ یہ دور بینظیر  کی زندگی کا بدترین دور تھا۔ ۱۹۸۸ میں وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں لیکن بیس ماہ کےبعد ان کی حکومت کوبد عنوانی کے الزامات لگا کر تحلیل کردیا گیا۔ ۱۹۹۳ میں جب دوبارہ انتخابات ہوئے تو بینظیر ایک مرتبہ پھر فاتح تھیں۔ آخروہ دن آگیا ۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ کو بینظیر لیاقت باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد آئیں تو واپسی پر بیک وقت دھماکے اور گولیوں کی گونج نے منظرنامہ تبدیل کردیا۔ بینظیر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں۔

آج جس سندھ دھرتی کے جو حالات ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ میں بھی محترمہ کے مزار پہ کئی مرتبہ گیا مگر میں نے جو دیکھا وہ حیران کن تھا محترمہ کے مزار پہ کئی خصوصی دروازے ہیں جن میں ایک دروازہ بلاول کا ، ایک دروازہ آصفہ کا ، ایک دروازہ زرداری کا ، ایک صحافیوں کا ، ایک پی پی کے ایم این ایز کا ، ایک ایم پی ایز کا ، ایک وکیل برادری کا ، ایک دروازہ سندھ پولیس کا ، ایک دروازہ پی پی کے سندھ کے کارکنوں کا ایک دروازہ چاروں صوبوں کے پی پی کے جیالوں کا۔۔ میں سوچ رہا تھا آخر عوام کا دروازہ کون سا ہے۔ جس سے ہم جیسے لوگ داخل ہو سکیں میں اسی کوشش میں تھا کہ ہم کس دروازے سے اندر جائیں ۔ تو اس دوران ہمیں بتایا گیا کہ ہم جیسے غریبوں کا دروازہ 13 نمبر ہے اس دروازے تک پہنچنا بہت مشکل ہے یہ ایک ایسا دروازہ ہے جس پہ کچھ پولیس والے ہماری مکمل تلاشی لینےکے لئے کھڑے تھے۔ جب ہمیں اپنا دروازہ ملا تو ہم مشکل میں پھنس گئے اب ان لاکھوں لوگوں کے بیچ میں ہم اپنی بائیک کہاں ٹھہرائیں ؟ 15 منٹ کی مسافت کے بعدپارکنگ کی جگہ ملی وہاں 50 کا نوٹ دے کے بائیک ٹھہرایا ۔ اب ہم اندر کی طرف چل پڑے اندر داخل ہوئے تو سب سے پہلے ہمارا شناختی کارڈ دیکھا گیا ۔ ہماری مکمل تلاشی لی گئی جیسے ہم بڑے دہشت گرد ہیں پاؤں سے لیکر سر تک تلاشی کےبعد مجھے اندر داخل ہونے دیا گیا۔ بلوچستان کا شناختی کارڈ ہمیں مہنگا پڑ گیا شاید سی پیک کی ترقی کی وجہ سے ہم انہیں برے لگنے لگے کیونکہ کراچی کی جگہ اب گوادر ترقی کرے گا ؟؟؟

خیر ہم اندر داخل ہو گئے تو الگ الگ پنڈال بنے ہوئے تھے ایک پنڈال غریبوں کا ، ایک وڈیروں کا ، ایک پنڈال سینئیر صحافیوں ، ایک نوجوانوں کا ، ایک پنڈال جیالوں کا ،ایک پنڈال بچوں کا تھا جنہیں آج سکول سے چھٹی دی گئی تھی رش اتنا تھا کہ کوئی اٹھتا تو جلد اس کو بیٹھنے کا کہہ دیا جاتا تھا۔ یہاں پہ ایم این اے ، ایم پی اے نظر آ رہے تھے جن کے چہرے بہ مشکل جیالے دیکھ پاتےتھے ۔ ہم نے بہ مشکل ایک جگہ ڈھونڈھ لی جس جگہ پہ بیٹھ کر ان کا چہرہ کچھ کچھ دیکھا جا سکتا ہے تقاریر کا آغاز ہمیشہ کی طرح چھوٹے چھوٹے جیالوں نے کیا پھر کچھ بڑے جیالے آ گئے پھر اس سے بڑےجیالے ۔۔ اس طرح تقاریر چلتی رہیں جیالے نعرہ لگانے میں اس قدر مصروف تھے کہ وہ سردی کو بھی بھول گئے شدید سردی کا احساس تک نہ رہا اسی دوران سب سے بڑا جیالا آ گیا وہ بہت جذباتی تھا سب پہ تنقید سب کو تیر کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہم عوام ان کی تقاریر پہ لطف اندوز ہوتے رہے جیالے تالیاں بجاتے رہے ٹی وی پہ عوام بھی جذباتی تقاریریں سننے کے ساتھ جذباتی ہوتےرہے۔ میں سب کچھ سن رہا تھا گانے تقریریں سن سن کر ہم جلسہ گاہ سے باہر نکلے جلسہ ختم ہوا تقاریر ختم ہوئیں اور ہم اپنی بائیک کی طرف چل پڑے۔۔