تازہ ترین
October 19, 2017

تحریر: ببرک کارمل جمالی

سی پیک تو بلوچستان میں ہے مگر ترقی پنجاب میں ہورہی ہے ؟؟؟
یہ سوا ل گوادر کے ایک طا لبہ نے خادم ۱علیٰ پنجاب جناب شہباز شریف سے پو چھا ۱س سو۱ل کا جواب دینے سے تو خادم ۱علیٰ قاصر رہے مگر ایک قہقہے کے بعد خاموشی اختیار کرلی۔!!!
اس خبر کو میڈیا نے بہت چلایا ہر طرح کی میڈیا نے اس خبر اچھالا اور ہیڈ لائن بنا لیا۔۔
اپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پِنگ کے دورہ پاکستان میں سی پیک سے منسلک منصوبوں کی تفصیلات سامنے آئیں جن کی کل لاگت 46 ارب ڈالر تھی۔ اس میں سے تقریباً 34 ارب ڈالر توانائی سے متعلق منصوبوں پر جبکہ تقریباً دس ارب ڈالر سڑکوں اور آمد و رفت کے ذرائع لیے مختص کیے گئے تھے۔ چینی صدر نے اس موقع پر ملک کی قومی اسمبلی سے بھی خطاب کیا اور سی پیک کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کا محور قرار دیا۔
اس سال اکتوبر تک مزید آٹھ ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری کے بعد سی پیک تقریباٌ 55 ارب ڈالر کی لاگت کا منصوبہ بن چکا ہے اور اس کو ‘گیم چینجر’ یعنی ملک کی تقدیر بدلنے والے منصوبے کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت اور منصوبے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ سی پیک نہ صرف ملک کی تقدیر بدل دے گا بلکہ اس منصوبے سے پاکستان میں غربت اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو ممکن ہو گا اور لگتا ایسا ہے کہ جیسے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔
لیکن اس منصوبے کے آغاز کے تین برس گزرنے کے بعد بھی سی پیک کو وہ غیر مشروط عوامی پذیرائی نہیں مل رہی جیسی شاہراہِ قراقرم کو ملی تھی۔
صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے 80 طلبہ اور طالبات گذشتہ دنوں صوبہ پنجاب کے چار روزہ دورے کے بعد سرکاری لیپ ٹاپس کے ساتھ واپس لوٹے ہیں۔
یہ طلبہ پنجاب کی مہمان نوازی سے کافی متاثر دکھائی دیتے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ ایک ملاقات میں بلوچ طلبہ کے سوالات نے شہباز شریف کو مشکل میں بھی ڈال دیا۔
سوال تھا کہ سی پیک کے تحت اہم اور کلیدی کردار گوادر کا ہے لیکن ترقی پنجاب میں ہو رہی ہے، آخر کیوں؟؟؟
تقریب کے میزبان نے اس پر قہقہہ لگا دیا تھا۔
گوادر واپسی پر بات کرتے ہوئے ان طلبہ نے کہا کہ وہ بھی اس ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں جو انھوں نے پنجاب میں دیکھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات میں ان طلبہ نے مزید کہا کہ سی پیک کا سن سن کر تھک چکے ہیں۔ طلبا نے کہا کہ ان کے پاس پینے کے لیے نہ تو صاف پانی ہے اور نہ ہی کپڑے استری کرنے کے لیے بجلی لیکن جب سیاستدان گوادر کا دورہ کرتے ہیں تو لوڈ شیڈنگ ختم ہو جاتی ہے۔
ان طلبہ کی شکایت تھی کہ چینی زبان سیکھنے کے لیے طالب علموں کو بھی لاہور سے بھیجا جاتا ہے۔ ان طلبہ کو لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں کے علاوہ مینار پاکستان، لاہور قلعہ اور شالیمار باغ اور واہگہ سرحد جیسے تاریخی مقامات کی سیر بھی کروائی گئی لیکن لاہور بہت ترقی یافتہ ہے، اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ گوادر بھی اتنا ہی ترقی یافتہ ہو جائے۔ ’بلوچستان کے طلبہ میں بھی بہت ٹیلنٹ ہے۔ انھیں بھی اگر ویسی سہولیات مل جائیں تو وہ بھی بہت اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔‘ اس دورے سے ان طلبہ کو اہم معلومات حاصل ہوئیں ہیں جو انھیں مستقبل میں کام آئیں گی۔ وہ اس طرح کے مزید دوروں کے حق میں دکھائی دیں۔ اس دورے میں اکثریت ایسے طلبہ کی تھی جو زندگی میں پہلی مرتبہ لاہور گئے تھے
’سی پیک کی ہونے والی تقریبات میں بلوچ طلبہ اور طالبات کو صرف وجہ سے نہیں بلایا جاتا کہ شاید ہم میں سے کوئی کھڑا ہو کر کہہ دے کہ جناب یہ روٹ تو کچھ اور تھا اور آپ کچھ اور کہہ رہے ہیں۔‘

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس منصوبے کے لیے سرکاری مشینری پوری طرح استعمال کی جا رہی ہوعوام اور حکومت دونوں کی پوری توجہ اس منصوبے پر مرکوز ہو اور جب کوئی بھی شخص سی پیک کی افادیت کی بارے میں سوال کرے تو برا لگ جاتا ہے۔اس منصوبے میں جب تک شفافیت نہیں آئے گی اس وقت تک یہ ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔
’اصل بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ یہ کسی صوبے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ منصوبہ پورے ملک کا ہے
سی پیک ایک طویل مدتی منصوبہ ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن جس طرح سے اس کے بارے میں پاکستان میں مبالغہ آرائی کی جا رہی ہے وہ ہوائی قلعے تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔‘ پاکستان کو اگر اپنی تقدیر بدلنی ہے تو اس کے لیے پالیسی کی اصلاحات ضروری ہیں جس کے بغیر کسی بھی قسم کا منصوبہ مکمل طور کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
ہر طرف حقوق ۔۔حقوق کی بات ہورہی ۔کوئی بڑی طاقتوں اور ملٹی نشنل کمپنیوں کی ظلم و ناانصافیوں سے تنگ ہے ۔ کوئی مرکز او ر بڑی صوبے سےنالاں ہے اور کوئی اپنے صوبے میں حق تلفی و عدمی مساوات سے شاکی ہےتو کوئی عدم تحفظ کا شکارہے کوئی اپنی سیاسی پارٹی کے اندر نا انصافیوں سے نالاں ہے تو کوئی سی پیک سے نالاں ہے