کراچی میں امن کے لیے کیا ضروری ہے؟

تحریر:
وقتِ اشاعت:

کراچی میں امن وامان کو رینجر کی موجودگی سے مشروط کردیا گیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوگیا ہے کہ رینجر کے بغیر شہرمیں امن وامان قائم نہیں رہ سکتا اس تاثر کے پیچھے بہت سی تاویلات ہیں


آزاد خیالی

تحریر:
وقتِ اشاعت:

لبرل یا آزاد خیال لوگوں کو پاکستان کے معاشرے میں ریاست کی آمریت اور معاشرے کی اکثریتی آمریت دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تخلیقی کاموں کا فقدان ہے


پیپلز پارٹی کا سچا خادم۔ امین فہیم

تحریر:
وقتِ اشاعت:

مخدوم صاحب نے زرداری صاحب کے اس جملے کا پاس رکھا کہ ہمارے آئندہ وزیراعظم مخدوم امین فہیم ہوں گے۔ ان کا قومی جرم اس سے بہت بڑا ہے کہ انہوں نے ایک خود ساختہ وصیت کے خلاف آواز نہ اٹھائی۔ پارٹی میں یہ کام صرف مخدوم صاحب کر سکتے تھے۔


کلی کلی جان دُکھ لکھ تے کروڑ

تحریر:
وقتِ اشاعت:

یہ خبر پڑھ کر مجھے اطمینان ہوگیا کہ چودھری صاحب کی اتالیقی میں پاکستان کا تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے والے نواز شریف، اب خارجہ امور کی باریکیاں بھی سمجھانا شروع ہوگئے ہیں۔


ضبط لازم ہے

تحریر:
وقتِ اشاعت:

مذھب اور فرقوں کے نام پر قتل وغارت گری ہماری آنکھوں کےسامنے پچھلی دو دہایوں سے تقریبا روز کا معمول بن چکی ہے.طا لع آزماؤں کے لگاۓ یہ زیھریلے بیج سیاسی حکومتوں کی بزدلی کی کھاد سے دن دگنی رات چگنی ترقی کرتے رہے.


ملالہ کو نوبل انعام – پاکستان کو بدنامی کے سوا کچھ نہيں ملے گا

تحریر:
وقتِ اشاعت:

مسئلہ يہ ہے کہ ايک طرف تو آئین ، ميڈيا، درسی کتب ، ملاؤں کے خطائب اور سياستدانوں کی تقارير ميں جنگ و جدل، جارحيت اور جہالت کی تبليغ کو لازمی قرار ديا جائے اور دوسری طرف ملالہ کو نوبل امن انعام ملنے پر جشن کا اہتمام کيا جائے يہ دو کام ايک وقت ميں کبهی نہيں ہوسکتے. کبهی بهی نہيں!